Sunday, September 16, 2012

اسلام کے خلاف صیہونی سازش بے نقاب

نام کتاب ۔۔۔۔۔۔ اسلام کے خلاف صیہونی سازش بے نقاب (حصہ اول) ۔۔۔۔۔۔ مصنف ۔۔۔۔۔ امجد کھگہ
یہ رومن نہیں تھے بلکہ یہودی تھے جنہوں نے حضرت عیسٰی کے ایک صحابی کو غلطی سے حضرت عیسٰی سمجھتے ہوئے اذیتیں دے دے کر ہلاک کیا لہذا ثابت ہؤا کہ صیہونی یہودیوں کا وہ فرقہ ہے جو ہمیشہ سے نبیوں کو قتل کرتا اور اذیتیں دیتا آیا ہے جس کی گواہی قرآن نے بھی دی ہے مثلا ملاحظہ ہو یہ آیت۔۔۔ وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ وَقَفَّيْنَا مِن بَعْدِهِ بِالرُّسُلِ ۖ وَآتَيْنَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ الْبَيِّنَاتِ وَأَيَّدْنَاهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ ۗ أَفَكُلَّمَا جَاءَكُمْ رَسُولٌ بِمَا لَا تَهْوَىٰ أَنفُسُكُمُ اسْتَكْبَرْتُمْ فَفَرِيقًا كَذَّبْتُمْ وَفَرِيقًا تَقْتُلُونَ ۔۔۔ ترجمہ ۔ اور بے شک ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور اس کے بعد بھی پے در پے رسول بھیجتے رہے اور ہم نے عیسیٰ مریم کے بیٹے کو نشانیاں دیں اور روح القدس سے اس کی تائید کی کیا جب تمہارے پاس کوئی وہ حکم لایا جسے تمہارے دل نہیں چاہتے تھے تو تم اکڑ بیٹھے پھر ایک جماعت کو تم نے جھٹلایا اور ایک جماعت کو قتل کیا ۔۔۔ ایک انگلش مووی جس کا نام شوٹر ہے امریکہ کے اندر کے رازوں سے ہلکا سا پردہ اٹھاتی ہے جب کہ حقیقت اس سے بھی کہیں زیادہ گہری اور پر اسرار ہے وہ یہ کہ امریکی معاشرے سمیت پوری دنیا کے ممالک جس میں تمام مذاہب کے لوگ شامل ہیں یعنی مسلمان، یہودی، عیسائی، ہندو، سکھ وغیرہ یہ سب کے سب ایک خفیہ گروپ کے غلام ہیں اور یہ گروپ بینکوں اور میڈیا کا مالک ہے اور بے پناہ دولت مند ہونے کی وجہ سے انتہائی طاقت ور ہے اور آپ ان لوگوں کی طاقت کا اندازہ یہاں سے لگا سکتے ہیں کہ امریکی صدر باراک اوبامہ ان کے جوتے چاٹنے والوں میں شامل ہے اور یہ لوگ صیہونیوں کے نام سے جانے جاتے ہیں اور یہ اپنے آپ کو یہودیوں کا ایک فرقہ بتاتے ہیں جب کہ یہ بات حقیقت نہیں ہے کیوں کہ یہودی تو خود ان کے ادنٰی غلام ہیں اور یہ لوگ درپردہ ایتھیئزم یعنی دہریہ پن کو دنیا میں بڑے پیمانے پر فروغ دینے میں لگے ہوئے ہیں اور اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے انہوں نے جو طریقہ کار اختیار کیا ہے وہ بڑا ہی عجیب و غریب اور دلچسپ ہے اس مقصد کے لئے وہ حکومتوں اور علماء کہلانے والے لوگوں کو استعمال کرتے ہیں مثلا پچھلی امتوں کے دور میں انہوں نے عیسائی راہبات اور عیسائی راہبوں پر مشتمل ایک فرقہ بنایا جس میں عورتیں نن کہلاتی ہیں اور مرد حضرات مونک کہلاتے ہیں یہ ساری عمر شادی نہیں کرتے اور چونکہ یہ عمل ایک غیر فطری بدعت پر مشتمل تھا جسے صیہونیوں نے گھڑ کر عیسائیوں کے مذہب میں دینی مدرسوں اور حکومتوں کی مدد سے شامل کیا تھا لہذا ایک مرتبہ ایک چرچ میں جب زلزلہ آیا اور چرچ کا فرش ٹوٹا تو اس میں سے چھوٹے چھوٹے نو مولود بچوں کے درجنوں ڈھانچے برآمد ہوئے اب آپ خود ہی اندازہ لگا لیں کہ وہاں اتنے سالوں تک پارسائی کی آڑ میں کیا ہوتا رہا حالانکہ یہ لوگ دین کی محنت کرنے کیلئے گھروں سے نکلے تھے بلکہ انہوں نے اپنی ساری زندگیاں ہی دین کیلئے وقف کر دیں تھیں لیکن نتیجہ کیا نکلا ؟ لہذا اگر عقل سے کام لیا جائے تو صاف ظاہر ہے کہ انسان جب بھی اللہ تعالٰی کے بنائے ہوئے دین اور اللہ تعالٰی کی بنائی ہوئی فطرت کو اپنی عقل کی روشنی میں بدلنے کی کوشش کرے گا اور اپنے آپ کو خدا سے زیادہ عقل مند سمجھے گا تو منہ کی کھائے گا اور اب صیہونی طبقہ عیسائیت کے بعد اس طرح کی بدعات اسلام میں داخل کرنے کی سازش میں تقریبا پچھلے تیرہ سو سال سے لگا ہؤا ہے مثلا نکاح متعہ اور نکاح مسیار اور لونڈی سسٹم رسول اللہ کے زمانے میں حلال تھے جو آپ کے پردہ فرمانے کے کچھ عرصہ بعد تک بھی حلال سمجھے جاتے رہے مگر بعد میں پر اسرار طور پر صیہونیوں نے کمال چالاکی سے حرام قرار دلوا دیئے کیوں کہ نکاح متعہ، نکاح مسیار اور لونڈیوں والا سسٹم معاشرے میں ایک سیفٹی والو کا کام کرتے تھے جیسے کہ ایک سیفٹی والو پریشر کوکر کو پھٹنے سے بچاتا ہے نیز اس سے معاشرے میں بھیک مانگنے والوں کی تعداد میں کمی لانے میں بھی مدد ملتی ہے یعنی ایسے لوگوں کی تعداد میں کمی جو غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہوتے اور فاقوں اور بھوک کی وجہ سے ہڈیوں کے ڈھانچے بن جاتے ہیں اور پھر جلد ہی موت کے منہ میں بھی چلے جاتے ہیں کیوں کہ نکاح متعہ، نکاح مسیار اور لونڈی غلام سسٹم کے نہ ہونے کی وجہ سے انہیں کوئی منہ نہیں لگاتا اور وہ سردیوں کی ٹھنڈی راتوں میں فٹ پاتھوں پر یا کہیں اور کھلے آسمان کے نیچے بھوک اور ٹھنڈ کے بے رحم پنجوں میں جان دے دیتے ہیں محض معاشرے میں لونڈی غلام سسٹم کے نہ ہونے کی وجہ سے کوئی ان بے کس لوگوں کا والی وارث نہیں بنتا اور نہ ہی کوئی ان لا وارثوں کو اپنے گھر کا فرد بنانے کو تیار ہے حالاں کہ کہنے کو تو یہ نام نہاد مہذب معاشرہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس نے اب دنیا سے غلامی کا خاتمہ کر دیا ہے لیکن ایسے حال سے تو وہ غلامی ہی بہتر تھی جس میں کم از کم جینے کا سہارا تو تھا پس صیہونیوں کی اس سازش کا مزید نتیجہ یہ بھی نکلا ہے کہ اب آپ آئے دن اخبارات میں اور ہر جگہ میڈیا پر اس قسم کی خبریں سنتے رہتے ہیں مثلا پچھلے دنوں ٹی وی پر اس خبر کے مناظر آپ نے بھی دیکھے ہوں گے جس میں ایک امام مسجد کو دکھایا گیا جس نے اپنے پاس قرآن پاک پڑھنے کے لئے آنے والے ایک چھ سالہ بچے کے ساتھ بد فعلی کر لی اور پھر راز کھل جانے کے خوف سے اس بچے کو قتل کر کے لاش مسجد کی چھت پر ڈال دی یا پھر ایسی خبریں بھی عام ہیں کہ باپ نے بیٹی سے زنا کر لیا یا بھائی نے بہن سے زنا کر لیا وغیرہ وغیرہ یا پھر مغربی ممالک میں ہم جنس پرستی کو جائز قرار دلوانے کے لئے باقاعدہ اسمبلیوں میں قانون پاس کروائے جا رہے اور اس کے علاوہ انسانیت کی تذلیل کے دوسرے سامانوں یعنی ربڑ کے گڈے گڑیوں کا استعمال اور دیگر جنسی آلات کا استعمال اور یا پھر جانوروں کے ساتھ سیکس وغیرہ دراصل یہ تمام طریقے خلاف وضع فطری افعال ہیں یعنی انسانی فطرت کے خلاف اعمال ہیں بلکہ انسانیت کی تذلیل ہیں کہ جن کی وجہ سے ماضی میں اللہ تعالٰی نے پوری کی پوری بستیاں الٹ ڈالیں اور یہ وہ کام ہیں جو شیطان انسانوں سے کروا کر خدا پر یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ میں نے اگر انسان کو سجدہ نہیں کیا تھا تو ٹھیک کیا تھا کیوں کہ انسان ہے ہی اس قابل کہ اسے سجدہ نہ کیا جائے یہ سب در اصل دین کی غلط تشریح کا نتیجہ ہے جو شیطان نے صیہونیوں کے ذریعے سے علماء، دینی مدارس اور حکومتوں کو استعمال کر کے پچھلے ڈھائی ہزار سال میں کی ہےکیوں کہ صیہونی یہودی نیہں ہیں بلکہ شیطان کے پجاری ہیں اسی لئے انہوں نے حدیث قرآن اور اسلام کی تشریحات کو بدلنے کی کوشش کی ہے جس کے ثبوت بھی موجود ہیں مثلا زمانہ جاہلیت یعنی اسلام سے پہلے متعہ کا رواج عام تھا لیکن جب آپ آئے تو آپ نے کسی مصلحت کے تحت اسے منسوخ یعنی منع فرما دیا تھا حالانکہ صحابہ اکثر اپنی مجبوریاں پیش کر کے آپ سے اس کی اجازت مانگتے رہتے تھے لیکن پھر جب اللہ تعالٰی نے یہ آیات نازل کیں کہ ۔۔۔ القرآن ۔۔۔ فما استمتعتم بہ منھن فا توھن اجورھن ۔۔۔ ترجمہ ۔۔۔ پس جب تم ان سے مزہ اٹھا چکو تو ان کو ان کی اجرت ادا کر دو ۔۔۔ پس ان آیات کے نازل ہونے کے بعد آپ نے مسلمانوں کو اس کی عام اجازت دے دی جس کا ثبوت حدیث میں بھی ملتا ہے روایات تو کافی زیادہ ہیں لیکن اختصار کیلئے فی الحال ایک ہی حدیث پر اکتفا کیا جاتا ہے ۔۔۔ الحدیث ۔۔۔ حسن بن محمد نے حضرت جابر بن عبداللہ اور سلمہ بن اکوع سے روایت کی ہے کہ ہم ایک لشکر میں تھے تو رسول اللہ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا مجھے اجازت مل گئی ہے کہ تم متعہ کر سکتے ہو پس تم متعہ کر لیا کرو ، سلمہ بن اکوع نے رسول اللہ سے روایت کی ہے کہ اگر کوئی آدمی اور عورت تین راتوں تک عشرت کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں اگر وہ اس مدت کے اندر کوئی کمی یا بیشی کرنا چاہیں تو ایسا بھی کر سکتے ہیں ۔۔۔ صحیح بخاری جلد نمبر 3 ،
کتاب النکاح ، باب ۔ 60 ، حدیث نمبر 106 ، صفحہ نمبر 68 پس اس سے متعہ کی اجازت کا مل جانا صاف ثابت ہے ۔ جب کہ اس سے پہلے جو متعہ کے منسوخ ہونے کی روایت ہے وہ صرف ایک آدھ روایت ہے جس کے راویوں کی تعداد بھی زیادہ نہیں ہے یعنی صحابہ کی اکثریت کا متعہ کے جائز اور حلال ہونے پر اجماع یعنی اکٹھ ہے علاوہ ازیں مسلمانوں کے تمام فرقوں کے علماء یہ بات اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ رسول پاک کے زمانے میں عورتوں کا مسجدوں میں آنا درست تھا اور آپ کے زمانے کے کچھ عرصہ بعد تک بھی اسے جائز سمجھا جاتا رہا مگر بعد میں ایک بادشاہ نے اپنے طور پر اس کی ممانعت کر دی تو اب آپ خود ہی سوچیں کہ کیا وہ بادشاہ گستاخ رسول نہ تھا کہ اس نے اس طور طریقے کو بدلنے کی کوشش کی جو رسول پاک کے زمانے میں جاری تھا لیکن بادشاہ چونکہ طاقتور ہوتے اور عوام کمزور اور ڈرپوک اس لئے وہ پرانے قوانین کو بدل کر اپنی مرضی کے نئے قوانین لے آتے ہیں اس کے علاوہ دین کی غلط تشریح کی عام مثال یہ ہے کہ اللہ تعالٰی تو حقوق العباد کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں بلکہ ایسے شخص کے حقوق اللہ یعنی نمازیں وغیرہ قبول ہی نہیں کرتے جو حقوق العباد کا غاصب ہو جس کا ثبوت قرآن کی سورۃ الماعون ہے جس میں اللہ تعالٰی نے ایسے نمازیوں کا ذکر کیا ہے جو اپنی نمازوں سے غافل ہیں اور اپنی نمازوں میں چوری کرتے ہیں یعنی اس بات سے غافل ہیں کہ ان کی نماز ان سے کیا مطالبہ کر رہی ہے اور نمازوں میں سے چوری کرنے سے مراد ثواب چوری کرنا ہے اب ظاہر ہے کہ جن لوگوں کو اللہ تعالٰی اپنے پاک کلام میں نمازی کہہ رہے ہیں ان کے نمازی ہونے میں کوئی شک نہیں لیکن اگر اس کے باوجود انہیں جہنم کی وعید سنائی جا رہی ہے تو آخر اس کی کیا وجہ ہو گی ؟ اس سوال کا جواب بھی اللہ تعالٰی نے اسی سورۃ میں اس سورۃ کی دیگر آیات میں عطا فرما دیا ہے کہ وہ یتیم کو دھکے دیتے ہیں اور مسکین کے کھانے کا اہتمام نہیں کرتے اور یہ کہ ان کی نماز دکھاوے کی نماز ہوتی ہے یہاں اس موقع پر میں یہ چاہوں گا کہ عبداللہ بن مبارک کے اس مشہور واقعہ کا ذکر کرتا چلوں جس سے اس بات کی تشریح ہوتی ہے کہ اللہ تعالٰی کے نزدیک حقوق العباد کی ادائیگی کی وجہ سے ہی حقوق اللہ قبول کئے جاتے ہیں عبداللہ بن مبارک ایک بہت ہی مشہور عالم دین گزرے ہیں اور آپ کا ایک بہت ہی مشہور واقعہ کچھ اس طرح سے ہے کہ ایک مرتبہ آپ حج سے فارغ ہونے کے بعد خانہء کعبہ میں سو گئے اس دوران آپ کو ایک خواب آیا اس خواب میں آپ نے دو فرشتوں کو دیکھا جو آپس میں گفتگو کر رہے تھے ایک فرشتہ دوسرے فرشتے سے پوچھ رہا تھا کہ اس سال کتنے لوگوں نے حج کیا ہے اور ان میں سے کتنے لوگوں کا حج قبول ہؤا ہے تو دوسرے فرشتے نے جواب دیا کہ اس سال چھ لاکھ لوگوں نے حج کیا ہے اور ان میں سے کسی کا حج قبول نہیں ہؤا البتہ دمشق میں ایک فلاں نام کا موچی رہتا ہے جو حج پر تو نہیں آیا لیکن اس کے باوجود اللہ تعالٰی نے اس کا حج قبول کرلیا ہے اور اس کے حج کے طفیل باقی سب لوگوں کا حج بھی قبول کر لیا ہے چنانچہ عبداللہ بن مبارک نے یہاں سے دمشق جا کر اس موچی کو تلاش کرنے کا فیصلہ کیا پس اس کا پتہ پوچھتے ہوئے اس تک پہنچ گئے اور اس سے دریافت کیا کہ آخر تم نے ایسا کون سا عمل کیا ہے جس کے سبب اللہ پاک نے تمہیں یہ مقام و مرتبہ عطا فرمایا ہے آپ کا یہ سوال سن کر اس موچی نے پوچھا کہ آپ کون ہیں ؟ اس پر آپ نے جواب دیا کہ میرا نام عبداللہ بن مبارک ہے یہ سن کر اس موچی نے ایک چیخ ماری اور بے ہوش ہو گیا اور جب ہوش میں آیا تو اس نے کچھ یوں ماجرا بیان کیا کہ بہت عرصے سے میرے دل میں حج کی تمنا تھی لہٰذا اس کے لئے میں نے پیسے جمع کرنے شروع کر دئے جب میرے پاس پیسے جمع ہو گئے تو ان دنوں میں ایک واقعہ پیش آیا ہؤا یوں کہ ایک دن پڑوسی کے گھر سے کھانے کی خوشبو آ رہی تھی چنانچہ میری بیوی نے مجھ سے کہا کہ پڑوسی کے ہاں جو کھانا پک رہا ہے ذرا اس میں سے کچھ ہم بھی تو چکھیں پس میں پڑوسی کے پاس گیا اور اس سے کھانا مانگا تو اس نے کہا کہ یہ کھانا آپ کے کھانے کے لائق نہیں ہے اصل میں میں اور میرے بیوی بچے پچھلے سات دنوں سے بھوکے تھے لہٰذا میں نے مرے ہوئے گدھے کا گوشت پکا لیا یہ سن کر میں نے اپنی حج کے لئے جمع کئے ہوئے پیسے اپنے اس پڑوسی کو دے دئے اس کے ساتھ ساتھ دوسری جانب ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ جس طرح اسلام سے پہلے بھی دین کو نقصان پہنچانے والے کوئی اور نہیں بلکہ علماء ہی تھے یعنی یہود و نصارٰی کے علماء اور وہ بھی تھوڑے سے دنیاوی فائدے کی خاطر یہی لوگ ہیں جو شیطان کا آلہ کار بنتے ہیں اور دین کی غلط تشریح کر کے امتوں کو گمراہ کرتے ہیں لہذا اب کسی ایسے مرد مجاہد کی ضرورت ہے جو امریکی عوام اور باقی دنیا کو صیہونیوں کی غلامی سے آزادی دلائے کیونکہ امریکی عوام صیہونیوں کے غلام ہیں مگر اس بات سے لا علم ہیں ہائے بے چارے بے خبر مظلوم امریکی عوام دراصل امریکہ تو کچھ بھی نہیں دنیا کے تقریبا تمام ملکوں کی پوری پوری اسمبلیاں ہی صیہونیوں کی جیب میں ہیں حتیٰ کہ پوری امریکی کانگریس بھی صیہونیوں کی خرید کردہ ہے لہذا امریکی حکومت اور امریکی میڈیا امریکی عوام کے مفادات کی خاطر کام کرنے کی بجائے صیہونی مفادات کے لئے کام کر رہا ہے۔ اب آپ کے سامنے ایک ایسا خط پیش کیا جاتا ہے جو ہمارے ہتھے چڑھ گیا جسے ایک جن لے کر جا رہا تھا جسے گرفتار کر لیا گیا اور اس سے یہ خط چھین لیا گیا اس خط سے پتہ چلتا ہے کہ دہریہ لوگ جو دعویٰ تو یہ کرتے ہیں کہ وہ کسی خدا کی عبادت نہیں کرتے مگر اندر کی بات یہ ہے کہ دہریہ سماج میں داخل ہونے والے خفیہ طور پر شروع میں شیطان کے کہنے پر سورج کی پوجا کرتے ہیں اور جب وہ اپنے دہریہ پن میں سینیئر ہو جاتے ہیں تو پھر براہِ راست انہیں شیطان کی پوجا کی اجازت مل جاتی ہے اور یہ رہا وہ خط جسے پڑھ کر انشاءاللہ باقی حقیقت آپ کو خود معلوم ہو جائے گی۔ اے تھیئسٹ موومنٹ یعنی دہریہ تنظیم کی طرف سے اعلان کیا جاتا ہے کہ ہم نے ان مذاہب کے خلاف اعلان جنگ کیا ہے جو آسمانی مذاہب کہلاتے ہیں مثلا ہندو مت، یہودیت، عیسائیت، سکھ ازم اور اسلام وغیرہ اور جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ دہریہ برادری خدا کے وجود پر یقین نہیں رکھتی بلکہ خدا کے بارے میں عقیدہ رکھتی ہے کہ وہ کوئی اور نہیں بلکہ ایک بہت بڑا جادو گر ہے جو اپنے جادو کے زور پر لاکھوں سالوں سے زندہ ہے اور اس نے انسانوں میں سے اپنے ایک لاکھ چوبیس ہزار شاگرد بنائے ہیں جو اس کے نہایت وفا دار ہیں اسی لئے تو آپ نے دیکھا ہو گا کہ تمام خدائی کتابوں میں ایک جیسی باتیں کہی گئی ہیں حالاں کہ ان کتابوں کی نہ صرف زبانیں مختلف ہیں بلکہ زمانے بھی مختلف ہیں اور علاقے بھی مختلف ہیں اس کے باوجود ایک جیسی بات ہونے کا صرف اور صرف یہی مطلب ہے کہ خدا کے وہ شاگرد جو نبی کہلاتے ہیں ان کے بھیجنے والا ایک ہی ہے یعنی خدا کہلانے والا دنیا کا سب سے بڑا جادوگر جس نے آبِ حیات پی رکھا ہے اور جو اپنے جادو کے کمالات کے ذریعے اپنے وفا دار شاگردوں کی سپورٹ کرتا ہے اور ان کمالات کو معجزات کہا جاتا ہے اور یاد رہے کہ آپ نے نوٹ کیا ہو گا کہ تمام انبیاء کہلانے والے لوگ معاشرے کے باغی ہوتے ہیں یعنی لوگوں کی روایات اور رسم و رواج کو تباہ و برباد کرنے والے ہوتے ہیں بات دراصل یہ ہے کہ دہریہ برادری کی مذہب والوں سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں بشرطیکہ مذہبی لوگ اپنے آپ کو صوم و صلواۃ اور عبادات تک محدود رکھیں تو ہماری ان سے کوئی دشمنی نہیں لیکن یہ لوگ تو حقوق العباد کے نام پر دوسروں کے گھریلو اور ذاتی معاملات میں ٹانگ اڑانے لگے ہیں جیسا کہ ان کے لیڈروں یعنی نبیوں نے کیا کہ عربوں جیسی غیرت مند قوم جو غیروں کے خطرے سے اپنی بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیتے تھے انہیں بے غیرت بنا دیا کہ آج وہ اپنے ہاتھوں سے اپنی بہنوں بیٹیوں کو غیروں کی ڈولی میں بٹھا دیتے ہیں مذہب کے نام پر ایسا کرنا بے غیرتی ہی نہیں بلکہ بے وقوفی بھی ہے اتنا ہی نہیں بلکہ یہ انبیاء لوگ ہمیں مزید بے وقوف بنانے کے لئے یہ بھی کہتے ہیں کہ اماں حوا اور بابا آدم کی اولاد ہونے کے ناطے انسان آپس میں غیر نہیں بلکہ بھائی بھائی ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں کہ زمین اور وطن کی محبت کی بجائے انسانوں کی محبت اپناؤ اور جو خود کھاؤ وہی دوسروں کو بھی کھلاؤ بھلا آپ خود انصاف کریں کہ یہ تمام سبق بے وقوفی اور بے غیرتی کے نہیں ہیں تو اور کیا ہے کہ انسان بے وقوفوں کی طرح اپنے منہ کا نوالہ نکال کر دوسروں کے منہ میں ڈال دے اور اپنی بہنوں بیٹیوں کو بے غیرتوں کی طرح دوسروں کی ڈولی میں بٹھا دے بس میں نہیں مانتا میں نہیں مانتا آسمانی مذاہب کو البتہ انسانوں کے بنائے ہوئے مذاہب میں سے کیپیٹل ازم یعنی سرمایہ داری نظام ہمارا پسندیدہ نظام ہے جو دنیا میں کامیابی سے چلایا جا سکتا ہے کیوں کہ ماضی میں بھی یہ نظام فرعون نے کئی سالوں تک بڑی کامیابی سے چلایا مگر موسٰی نامی ایک خدائی شاگرد نے آ کر اس اچھے بھلے نظام کو تباہ و برباد کر دیا اسی لئے تو خدا نے اپنی کتاب قرآن میں فرعون پر جو الزام لگایا ہے وہ یہی ہے کہ اس نے معاشرے کو طبقوں طبقوں میں بانٹ دیا تھا اب پھر کافی محنت کے بعد عدل پر مبنی اس نظام کو دو سو سال کی کاوش کے بعد امریکہ میں زندہ کیا گیا ہے جسے چین جیسا باغی ملک میلی نگاہ سے دیکھ رہا ہے لہذا پہلی فرصت میں چین کا خاتمہ بہت ضروری ہے لہذا دہریہ برادری کے مجاہدوں سے اپیل ہے کہ چین کے ساتھ ساتھ خاص طور پر ان ستاون ملکوں کو صفحہء ہستی سے مٹانے کے لئے کمر کس لیں جو مسلمان ملک ہیں کیوں کہ ان ہی کا مذہب سب سے زیادہ صحیح حالت میں ہے اور یہی سب سے زیادہ مذہبی جنونی ہیں گو کہ ہماری برادری کے لوگ مسلمانوں کی صفوں میں گھس کر اسلام کو نقصان پہنچانے کی پوری کوشش کر رہے ہیں تاہم کوئی خاطر خواہ کامیابی نہیں ہو سکی یعنی ہم قرآن میں تحریف کرنے میں ناکام رہے ہیں لیکن خوش خبری کی بات یہ ہے کہ ہماری پچھلے بارہ سو سال کی محنت رنگ لائی ہے اور ہم فقہ، تفسیر اور قرآن کی تشریح کے معاملات میں تحریف کرنے میں کافی حد تک کامیاب ہو گئے ہیں لہذا شکر ہے شیطان جی کا کہ آج کا مسلمان گمراہ ہے اور اس اسلام سے قطعی ناواقف ہے جو آج سے چودہ سو سال پہلے مسلمانوں کے پیغمبر نے انہیں دیا تھا اور یہ ہماری دن رات کی کوششوں اور محنتوں کا نتیجہ ہے کہ آج کے زیادہ تر مسلمان کم ناپنے اور کم تولنے کے باوجود یہ سمجھتے ہیں کہ ہماری نمازیں ہمیں بخشوا لیں گی اور شیطان جی کا شکر ہے کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ قیامت کے دن نماز کے معیار یا نماز کی کوالٹی کی بجائے نماز کی تعداد پوری ہونے کا سوال کیا جائے گا یعنی اگر کوئی شخص حقوق العباد کا مجرم ہو تب بھی اس کی نماز قبول کر لی جائے گی اور محض نمازوں کی گنتی پوری ہونے کی بنیاد پر کوئی شخص بندوں پر ظالم ہونے کے باوجود بخش دیا جائے گا اور مسلمانوں میں ایسی گمراہی پھیلانے میں ہمارا ساتھ دینے کے لئے ہم بعض بھولے بھالے اور سیدھے سادے ملا حضرات کے بھی شکر گزار ہیں کیوں کہ ایسے ہی لوگوں کی مدد سے ہم نے پچھلی امتوں کے لوگوں کو بھی گمراہ کیا تھا پس انہی ملا حضرات کی کاوشوں کا نتیجہ ہے کہ آج کا مسلمان بجائے کردار اور اخلاق کے اپنے رسول کی ظاہری وضع قطع مثلا ڈاڑھی اور لباس وغیرہ کو ہی سنت اور دین سمجھتا ہے حالاں کہ اس وقت کے کافروں کی بھی سب کی ویسی ہی ڈاڑھیاں تھیں جیسی کہ مسلمانوں کے نبی کی تھی اور ان کا بھی ویسا ہی لباس تھا جیسا کہ مسلمانوں کے نبی کا تھا جبکہ فرق تھا تو صرف کردار کا اور اخلاق کا یعنی بے وقوفانہ رحم دلی، انسانی ہمدردی اور انسانی حقوق کا ایسا خیال جیسا کہ کسی ماں کا اپنی اولاد کے لئے ہوتا ہے اور آپ تو جانتے ہی ہیں کہ ماں تو جنونی ہوتی اور ہماری دہریہ برادری ہرگز یہ نہیں چاہے گی کہ یہ مسلمان آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ ایسی محبت کرنے لگ جائیں جیسی کہ ان کے رسول نے انہیں سکھلائی ہے کیوں کہ اگر ایسا ہو گیا تو ان کے درمیان اتحاد قائم ہو جائے گا اور یہ ہمارے لئے خطرہ بن جائیں گے اور اصل میں اسلام ہے ہی دردِ دل ہمدردی اور محبت نام کی بیماری کا جسے اس دنیا سے مٹانا ہمارا مشن ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ بے وقوف ملا انجانے میں ہمارے اس مشن میں ہمارا ساتھ دیتے رہیں گے اور پیغمبر اسلام کی ایسی تصویر امت کے سامنے رکھتے رہیں گے جس میں کردار اور اخلاق کی بجائے لباس اور ڈاڑھی وغیرہ کا تذکرہ ہوگا کیوں کہ اسلام کی اصل معلومات کی رو سے وہ نبی ماں سے بھی زیادہ اپنی امت سے پیار کرنے والا ہے مثلا محشر کے دن جب سگی مائیں اپنی اولادوں سے منہ موڑ کر کھڑی ہو جائیں گی کیوں کہ نفسا نفسی کا عالم ہو گا تو اس دن مسلمانوں کا نبی ان کی ماں بن کر ان کی بخشش کے لئے سجدہ ریز ہو گا شاید اسی لئے خدا نے محمد کو رحمۃً للعالمین کا لقب دیا ہے لہذا ایک تو دہریہ برادری کو اس بات کی کوشش کرنی چاہیئے کہ شریعت محمدی پردوں میں ڈھکی رہے پس اس سلسلے میں بے وقوف ملا ہمارا بہترین مدد گار ہے اور ہاں دوسری خوش خبری کی بات یہ ہے کہ ہم نے اپنے محترم گرو جنابِ عزازیل جن کا نام تبدیل کر کے خدا نے ابلیس رکھ دیا تھا یعنی دھتکارا ہوا اور وہ بھی صرف اس وجہ سے کہ انہوں نے آدم کو سجدہ کرنے سے انکار کر دیا تھا تو ان کی مدد سے ملاؤں کی آنکھوں پر ایسے پردے ڈال دیئے ہیں کہ آج انہیں چھوٹے چھوٹے مسائل بھی سمجھ نہیں آتے اور وہ آپس میں لڑتے رہتے ہیں مثلا کوئی عالم تو یہ کہتا ہے کہ عورت کا پورا جسم ستر ہے یعنی پردہ ہے تو کوئی کہتا ہے کہ چہرے کا پردہ نہیں ہے اب ان بے وقوفوں کو اتنی سیدھی سی بات سمجھ میں نہیں آرہی کہ یہ دونوں باتیں اپنی اپنی جگہ پر درست ہیں فرق صرف ان کے محلِ استعمال کا ہے یعنی مکمل پردہ شادی شدہ عورت کے لئے ہے اور چہرے کو ننگا صرف کنواری لڑکی کر سکتی ہے یا پھر بیوہ یا طلاق یافتہ عورت تاہم گردن اور اس سے نیچے کا حصہ کنواری لڑکی بھی نہیں کھول سکتی ما سوائے اپنے باپ بھائی وغیرہ کے لیکن وہ بوڑھی عورتیں البتہ کھول سکتی ہیں جو اپنے نکاح کے حوالے سے نا امید ہو چکی ہوں تاہم اگر وہ بھی ان حصوں کو چھپائے رکھیں تو اس کی تعریف کی گئی ہے اس اختلاف کی وجہ در اصل پردے کے سلسلے میں دو مختلف طرح کی آیات کا پایا جانا ہے ایک جلابیبھن والی آیت اور دوسری من وراء الحجاب والی آیت اسکے علاوہ اختلاف کا بڑا سبب ما طاب لکم من النساء والی آیت بھی ہے یعنی ایسی عورتوں سے نکاح کرو جو تمہارے دل کو لبھائیں لہذا اب آپ خود ہی سوچیں کہ جن عورتوں کو سرے سے دیکھنا ہی منع ہو وہ دل کو کیسے لبھا سکتی ہیں اسی طرح سے غلط مفہوم لینے کی ایک عام مثال نگاہیں نیچی رکھنے والی آیات ہیں جن سے مراد دراصل گستاخی سے بچنے اور غرور سے بچنے کے لئے نگاہوں کا نیچا کرنا ہے کیوں کہ تکبر اور غرور کو دینی لوگوں کے خدا یعنی یہودیوں عیسائیوں اور مسلمانوں وغیرہ کے خدا نے شدید ناپسند کیا ہے مگر اپنی بہنوں اور بیٹیوں کے بارے میں اپنے دل میں سیکس بھری محبت رکھنے والے لوگوں نے ان آیات کا ترجمہ عورتوں کو نہ دیکھنے والا کیا ہے اسی لئے قرآن میں کہا گیا ہے کہ بہت سے لوگ اس قرآن سے ہدایت پا جاتے ہیں اور بہت سے لوگ اس سے گمراہ ہو جاتے ہیں مگر وہی گمراہ ہوتے ہیں جن میں نافرمانی پائی جاتی ہے دراصل اسلام میں دو طرح کی غیرت ہے ایک حلال دوسری حرام یعنی جو غیرت بیوی کے معاملے میں ہے اسے تو جائز اور حلال قرار دیا گیا ہے مگر جو غیرت بہن یا بیٹی وغیرہ کے معاملے میں ہے اسے ناجائز اور حرام قرار دیا گیا ہے اور اس اعتبار سے غیرت مندوں کو دو قسموں میں تقسیم کیا گیا ہے ایک حلالی غیرت مند دوسرے حرامی غیرت مند اور حرامی غیرت مندوں کے بارے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان میں جو حرام غیرت کے جذبات پائے جاتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ یا تو ان کی ماں نے زنا کروایا ہے یا پھر ان کی نانی یا دادی نے زنا کروایا ہے جس کی وجہ سے ان کے دل میں حرام غیرت کے جذبات پیدا ہو گئے ہیں۔ اور اب ذرا بات کرلیں ہم اپنی برادری کے ایک خاص ممبر کی جنہیں اب جسٹس افتخار کے بیٹے ڈاکٹر ارسلان کی وجہ سے خاصی شہرت مل چکی ہے یعنی بحریہ ٹاؤن والے ریاض ملک صاحب یہ بھی ہماری طرح سورج کو سجدہ کرتے تھے جب کہ سورج کے پیچھے تشریف رکھتے تھے ہمارے گرو ابلیس صاحب کیوں کہ نئے آنے والے ابلیس صاحب کو آمنے سامنے سجدہ کرنے کے مجاز نہیں ہوتے ہاں جب ممبر سینیئر ہو جائے تو ابلیس صاحب اپنے دیدار کا شرف بھی بخشتے ہیں اور اپنے پاس بھی بٹھاتے ہیں اور ہماری دہریہ برادری وہ برادری ہے کہ ان کے بڑوں کے جوتے پالش کرنے والوں میں اوبامہ بھی شامل ہے بلکہ امریکہ کی پوری پارلیمنٹ ان کی جیب میں ہے جیسے پاکستان کے تمام سیاستدان اور فوج کے جرنیل ریاض ملک کی جیب میں ہیں یعنی اس وقت دنیا کے حقیقی حکمران ریاض ملک کے امیڈیئیٹ باس یعنی صیہونی دنیا کی روتھ شائیلڈ فیملی ہے اور اس کے علاوہ برطانیہ کا شاہی خاندان بھی ہے جب کہ ان لوگوں کو اپنے یہودی یا عیسائی ہونے کا فخر نہیں بلکہ اپنے فرعون کی نسل سے ہونے کا فخر ہے جب کہ یہ لوگ یہودی یا عیسائی ہونے کا دعویٰ تو صرف اپنی اصلیت کو لوگوں سے چھپانے کے لئے کرتے ہیں اور ان لوگوں کو ابلیس کی براہِ راست آشیر باد حاصل ہے اور ریاض ملک ہماری شان ہے لہذا کوئی اسے ہماری برادری سے باہر کا آدمی ثابت کرنے کی جرأت نہ کرے کیوں کہ ریاض ملک کو ہماری برادری کا ثابت کرنے کیلئے ہمارے پاس کافی سے زیادہ ثبوت موجود ہیں مثلا ایک چوکور کھمبا یعنی پلر جسے مسلمان حج کے دوران پتھر مارتے ہیں اور اس پلر کی چوٹی پر ایک چھوٹا سا پیرامڈ جب کہ پیرامڈ وہ شکل ہے جسے عوام اہرامِ مصر کے نام سے جانتے ہیں یعنی فرعونی دور کی پہاڑ نما چوٹی دار وہ شکل یا عمارت جو چار تکونوں سے گھری ہے اور جسے ایک مربع شکل کے پلاٹ پر تعمیر کیا گیا ہے اور یہ کھمبا یا پلر جو چوکور شکل کا ہے اور جس کی چوٹی پر فرعون کی علامت یا سرمایہ داری نظام کی علامت یعنی پیرامڈ بنا ہے اس شکل سے تمام مسلمان تمام عیسائی اور تمام یہودی نفرت کرتے ہیں کیوں کہ یہ لوگ اسے ہمارے گرو ابلیس کی علامت کے طور پر پہچانتے ہیں اور اسے شیطان کہتے ہیں مگر اس علامت پر پتھر برسانے کا ظلم کرنے کا موقع صرف مسلمانوں کو اس لئے ملتا ہے کہ ان مقامات پر جانے کی اجازت حکومت سعودی عرب نے صرف مسلمانوں کو دے رکھی ہے ورنہ ہماری اس مقدس علامت کو پتھر تو یہ سب حرامزادے ہی مارنا چاہتے ہیں لیکن اگر آپ کو ریاض ملک کے بحریہ ٹاؤن میں جانے کا اتفاق ہو تو آپ دیکھیں گے کہ ریاض ملک نے اپنے بحریہ ٹاؤن میں اس علامت کو نمایاں جگہ پر بنوا کر خصوصی عزت دی ہے جبکہ فرعون کی علامت یعنی پیرامڈ کو اپنے دفتر کی چھت پر اس طرح سے خفیہ انداز میں بنوایا ہے کہ عام آدمی کی پلید نگاہیں اس پر نہ پڑ سکیں اور صرف ہیلی کاپٹر کی نیچی پرواز سے ہی اسے دیکھنا ممکن ہو اس کے علاوہ شیطان جی کی پوجا کے سب سے قدیم مندر کو آپ بے شک نیٹ پر سرچ کر کے دیکھ لیں اسکی شکل جب آپ نیٹ پر دیکھ لیں اور اس کے برآمدوں کے ماتھوں پر لکھی قدیم تحریروں کو جب آپ پڑھ لیں جو کہ آپ کو سمجھ نہیں آئیں گی اور ان برآمدوں کے موٹے موٹے ستونوں پر لکھی ویسی ہی تحریروں اور نقش و نگار کو بھی دیکھ لیں یہ بھی آپ کو سمجھ نہیں آئیں گی پس اسکے بعد آپ بحریہ ٹاؤن میں آ کر شیطان جی کی پوجا کے اس سب سے قدیم مندر کا ہو بہو ماڈل آ کر دیکھ سکتے ہیں اور وہی تحریریں اور وہی نقش و نگار آپ وہاں آ کر پہچان سکتے ہیں اس کے علاوہ شیطان جی نئے پجاریوں سے اپنی پوجا چونکہ سورج کی آڑ میں کرواتے ہیں یعنی اپنے اور پجاری کے درمیان سورج کا پردہ حائل رکھ کر اپنی پوجا کرواتے ہیں اور شیطان جی نے سورج دیوتا کو آل سی انگ آئی کا لقب دے رکھا ہے یعنی سب دیکھنے والی آنکھ اور ریاض ملک صاحب کے آفس جانے کا اتفاق ہو تو آپ دیکھیں گے کہ ریاض ملک صاحب جس کرسی پر بیٹھتے ہیں اسکی پچھلی دیوار پر سورج دیوتا کی ایک بہت بڑی تصویر بنی ہے اب آپ خود ہی انصاف کریں اور بتائیں کہ ریاض ملک صاحب شیطان جی کے کس قدر قریبی ساتھیوں میں شامل ہیں اب آپ کے سامنے انٹرنیٹ میں گوگل پر تلاش کی خاطر چند اصطلاحات پیش کی جا رہی ہیں جو شیطان کی پوجا، سورج کی پوجا اور بت پرستی سے متعلق دیگر لوازمات کے بارے میں ہیں آپ انہیں انٹرنیٹ پر تلاش کر کے ان پر غور کریں یہ دراصل شیطان کی پوجا سے متعلق کوڈ ورڈز یعنی خفیہ اشارے ہیں مگر شیطان جی نے ایسا منتر پڑھا ہے کہ ان علامات کو کھلم کھلا اور سر عام دکھانے کے
با وجود لوگوں کا دھیان اس طرف نہیں جاتا گویا ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا گیا ہے اور پھر انٹرنیٹ پر یہ علامات دیکھنے اور ان پر غور کرنے کے بعد انٹرنیٹ پر ہی آپ بحریہ ٹاؤن کو تلاش کریں اور پھر غور کریں کہ یہ علامات کس حد تک بحریہ ٹاؤن میں موجود ہیں پس آپ کی خدمت میں پیش ہیں ان میں سے چند اصطلاحات کی لسٹ جو آپ گوگل پر تلاش کریں
Bahria town Lahore, obelisk, all seeing eye, luxor, karnak, one dollar
bill, isis, osirises, son of the widow, oldest temple of satan
worship, astana, sinister sites etc.
جبکہ زرداری ریاض ملک صاحب کا خدمت گار ہے کیوں کہ ریاض ملک صاحب اگر آج چاہیں تو زرداری کو صدارت سے ہٹا کر کسی اور کو صدر بنا دیں لیکن روتھ شائیلڈ فیملی نے ریاض ملک کو حکم دیا ہے کہ پاکستان میں معاملات کچھ پیچیدہ ہوتے چلے جا رہے ہیں جن کو سنبھالنا اب زرداری جیسے بدھو کے بس کی بات نہیں رہی لہذا اگلی مرتبہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان کی صدارت کا عہدہ تم خود سنبھالو یہ اطلاع خوشخبری کے طور پر دہریہ برادری کے لوگوں کے لئے بھی ہے اور اب دہریہ سماج کے لوگوں کے لئے ایک ایسے پکے اور سمجھ دار مسلمان کا خط پیش کیا جاتا ہے جس سے دہریہ سماج کو ایسے خطرہ ہے جس طرح ماضی قریب میں ایک بغیر ڈاڑھی والے ولی جسے دنیا علامہ اقبال کے نام سے جانتی ہے اس سے خطرہ تھا یا جیسے ماضی قریب کے ایک حقیقی عالم سے تھا جسے دنیا مولانا مودودی کے نام سے جانتی ہے جب کہ ان دونوں کا توڑ ہم نے یہ نکالا تھا کہ ان کے پیچھے ہم نے علماء کہلانے والے ملاؤں یعنی مسلمان امت کے بد ترین جاہلوں کو لگا دیا تھا اور شیطان کی کرپا سے ہم نے یہ جنگ جیت لی تھی جس کا یہ نتیجہ ہے کہ آج مسلمان عوام ان دونوں کو گالیاں دیتے ہیں شکر ہے شیطان کا۔ ہاں تو وہ خطرناک خط دہریہ سماج کے مجاہدوں کی اطلاع کے لئے پیش کیا جاتا ہے تاکہ وہ اپنے شیطانی دماغ کے ذریعے اس کا کوئی توڑ سوچیں تو یہ رہا وہ خط ۔
محمد در اصل محبت کا دوسرا نام ہے جس کی گواہی قرآن کی یہ آیت دے رہی کہ ہے و ما ارسلنا ک الا رحمۃً للعالمین یعنی ہم نے تمہیں تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجنے کے سوا کسی اور مقصد کے لئے نہیں بھیجا ۔ گویا محمد ہماری ماں ہے بلکہ مہا ماں ہے کیوں کہ روز محشر جب سگی مائیں اپنی اولادوں سے منہ موڑ کر کھڑی ہو جائیں گی کیوں کہ نفسا نفسی کا عالم ہو گا یعنی ہر ایک کو اپنی اپنی پڑی ہو گی مگر ایسے میں محمد کی داڑھی آنسوؤں سے بھیگی ہو گی اور وہ امت کی بخشش کے لئے زارو قطاررو رہے ہوں گے اور گڑگڑا رہے ہوں گے پس آپ کا ایسا ہی ایک اور واقعہ سناتا چلوں جب آپ معراج پر تشریف لے گئے اور آپ کے سامنے حوروں کا ایک گروپ پیش کیا گیا جس کی سردار آپ کی طرف آگے بڑھنے لگی تو آپ نے اس سے کہا کہ تو تو میرے کالے بلال کے لئے ہے ایسے جذبات تو اپنے بیٹے کے لئے کسی ماں کے ہی ہو سکتے ہیں تو بھلا جب کوئی ہماری ایسی ماں یعنی محمد کی شان میں گستاخی کرے گا تو ہم کیسے برداشت کریں گے لہٰذا جو کچھ ممتاز قادری اور غازی علم دین شہید نے کیا ہم اس پر ناز کرتے ہیں اور رشک کرتے ہیں کہ یہ سعادت ہمیں کیوں نہ نصیب ہوئی لوگو رسول اللہ وہ ہستی ہیں کہ ان کی صحبت کے اثر سے وحشی لوگ رحم دل انسان بن گئے لو سنو رسول اللہ کے زمانے میں موجود لوگوں پر اللہ کے رسول کی صحبت کا اثر اور ان کے آپسی انس و محبت کا واقعہ --- ایک مرتبہ صحابہ کا ایک گروہ کسی شام ایک صحابی کے ہاں مہمان ہوا جب کھانا پیش کرنے کی باری آئی تو میزبان کے پاس کھانا بہت کم تھا تاہم حسب توفیق جو بھی میسر تھا گول دائرے کی شکل میں بیٹھے ہوئے صحابہ کے گروہ کے درمیان رکھ دیا گیا اور میزبان نے اس خیال سے چراغ بجھا دیا کہ مبادا ایک دوسرے کا حیاء کریں اور ہچکچاہٹ میں ٹھیک سے کھانا نہ کھا سکیں اور اپنے اندازے کے مطابق جب وہ واپس آیا یہ سوچ کر کہ اب تو سب لوگ کھانا کھا چکے ہوں گے لہٰذا اچانک اس نے جب چراغ جلایا تو ایک عجب منظر نظر آیا کہ کھانا ویسے کا ویسے پڑا ہے اور اس خیال سے سبھی کھانے تک خالی ہاتھ لے جا کر خالی اپنے منہ تک واپس لا رہے تھے یہ سوچ کر کہ میری خیر ہے میرے بھائیوں کو کھانا ملنا چاہیئے پس یہ تھے حضور کے سچے پیرو کاروں کے ایمان اسی طرح ہجرت کے موقع پر انصار نے جس ایثار کا مظاہرہ کیا اسکی مثال ملنا ناممکن ہے مثلا اپنے گھروں کو آدھا کیا، گھروں کے سامان کو آدھا کیا، حتٰی کہ جس کے پاس دو بیویاں تھیں اس نے اپنے مہاجر بھائی کے لئے جو زیادہ خوبصورت تھی اسے طلاق دے دی ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہوں جسے --- اللھم صل علٰی محمد و علٰی آل محمد و بارک و سلم دوستو میرا نام امجد رفیع شاہ کھگہ ہے اورایک سائنسدان ہوں، آپ کے لئے جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم آسان لفظوں میں ڈھالنا چاہتا ہوں تاکہ آپ مغربی دنیا اور گوروں سے خواہ مخواہ متأثر اور مرعوب نہ ہوں بلکہ یہ جو دنیا آپ کو سائنسی طور پر بڑی ترقی یافتہ لگ رہی ہے ایک پرانے زمانے کی غیر ترقی یافتہ دنیا لگنے لگے تاہم انشاء اللہ دوسرے موضوعات پر بھی بات ہوتی رہے گی۔ میں اپنی بات کا آغاز ایک حدیث قدسی سے کرتا ہوں اور حدیث قدسی اس حدیث کو کہتے ہیں جس میں آقا یہ فرمائیں کہ یہ بات اللہ تعالٰی نے فرمائی ہے پس حدیث کامفہوم کچھ یوں ہے یعنی اللہ تعالٰی فرما رہے ہیں کہ میں شروع میں دین ٹھیک عطا کرتا ہوں لیکن بعد میں شیطان آہستہ آہستہ اس میں ملاوٹ کر دیتا ہے تو کیا اس حدیث قدسی کو سننے کے بعد ہندو، یہودی، عیسائی اور مسلمان اللہ تعالٰی کی بات پر ایمان لائیں گے یعنی اس بات کا یقین کریں گے کہ ان میں سے کسی کے پاس بھی اللہ تعالٰی کا پیغام اپنی اصل شکل میں موجود نہیں ہے یعنی ان کے پاس جو دین ہے وہ ایک بدلا ہوا دین ہے اور شیطان انسانوں کو ورغلانے میں اس قدرکامیاب نظر آتا ہے کہ اس نے مسلمانوں کے ملا یہودیوں کے ربی عیسائیوں کے پادری اور ہندوؤں کے پنڈت کو گمراہ کیا اور پھر ان کے ذریعے پوری پوری امتوں کو گمراہ کر ڈالا لیکن سب سے بڑی حیران کن بات یہ ہے کہ یہ گمراہی اصل کتابوں میں موجود نہیں بلکہ کتابوں کی تفسیر اور فقہ میں موجود ہے اور بعض اوقات یہ گمراہی جھوٹی حدیثوں کے راستے بھی آتی ہے مثلاً تالمود پچاس فیصد سے زیادہ تورات کی من گھڑت تفسیر ہے اور اسی طرح مسلمانوں کی حدیثوں کی کتابوں میں تیس فیصد حدیثیں جھوٹی ہیں اور جن کے جھوٹا ہونے کا سادہ سا ثبوت یہ ہے کہ وہ قرآن سے ٹکرا رہی ہیں مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض ضدی ملا انہی پر انحصار کرنے پر زور دے رہے ہیں اور وہ بھی چند روزہ زندگی کی خاطر دراصل یہ ساری گیم پیسے سے شروع ہو کر پیسے پہ ختم ہوتی ہے یہودیوں نے یزید کی مالی مدد کی اور یہ پیسہ جھوٹی حدیثیں گھڑنے کے محکموں کے قیام اور ٹاسک فورس کی تنخواہوں پہ خرچ ہوا مگر آفرین ہے بخاری اور مسلم جیسے مجاہدوں پہ جنہوں نے اس سازش کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور انتہا درجہ احتیاط اور دن رات کی محنتوں اور اللہ کی مدد سے ستر فیصد سے زائد سچی حدیثیں اکٹھی کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ آج کل کا اسلام اصل اسلام نہیں ہے یعنی یہ وہ اسلام نہیں ہے جو آج سے چودہ سو سال پہلے ہمیں اللہ اور اللہ کے پیارے رسول سے ملا تھا بلکہ یہ ایک سازش ہے جو حقیقی اسلام کو چھپانے کیلئے رچائی گئی ہے اور یہ سازش بڑے علماء (کہلانے والوں) نے پیسوں کے لالچ میں رچائی ہے (کیوں کہ عالم کہلانے اور ہونے میں بڑا فرق ہے) اس سازش میں انہوں نے چھوٹے علماء کو بے وقوف بنایا ہے اور وہ بھی رسول اللہ کی وفات کے کچھ ہی عرصہ بعد بادشاہوں اور دولت مندوں کے کہنے پر جب کہ آج کل کے دولت مند اور بادشاہ لوگ آج کل کے سیاستدان ہیں مگر یہ بات آجکل کے ملاؤں کی سمجھ سے باہر ہے کیوں کہ وہ کہلاتے تو علماء ہیں مگر اندر سے جاہل ہیں اس لئے کہ اسلام کی حقیقت کو نہیں سمجھتے یعنی یہ سمجھ دور لوگ دولت مندوں کی خوشامد میں انہیں ایک ایسا مذہب بنا کر پیش کر رہے ہیں جس میں دولت مند لوگوں کا پیسہ بچ جائے یعنی یہ غریبوں پر اپنا مال خرچ کیئے بغیر جنت کے حق دار بن جائیں یہ لوگ یہ تو کہتے ہیں کہ روز محشر پہلا سوال نماز کا ہو گا مگر یہ بات بتانا ان کی سمجھ سے باہر کا معاملہ ہے کہ یہ سوال نماز کی تعداد یا گنتی پوری ہونے کے بارے میں نہیں ہو گا بلکہ نماز کی کوالٹی یا معیار کے بارے میں ہو گا اگر انہوں نے قرآن کی سورہ الماعون کو سمجھ کر پڑھا ہوتا تو انہیں ضرور یہ بات معلوم ہوتی کہ جن لوگوں کو قرآن پاک میں خدا خود نمازی کہہ رہا ہے ان کے نمازی ہونے میں کوئی شک نہیں لیکن اس کے باوجود انہیں ہلاکت کی وعید سنائی جا رہی ہے آخر اس کی کوئی وجہ تو ہو گی جی ہاں اس کی وجہ ضرور ہے اور وہ وجہ ہے نماز کے دوران اللہ تعالٰی سے کیئے گئے وعدے کو پورا نہ کرنا اور خدا سے یہ وعدہ ہم اس وقت کرتے ہیں جب ایاک نعبد پر پہنچتے ہیں اور لفظ نعبد فعل مضارع ہے یعنی حال اور مستقبل دونوں پر دلالت کرتا ہے گویا ہم خدا سے کہہ رہے ہیں کہ ہم آج بھی تیری عبادت کرتے ہیں اور آئندہ بھی کریں گے اور خدا کے نزدیک حقیقی عبادت مخلوق خدا کی خدمت ہے اور یہ بات بھی سورہ الماعون کے اگلے ٹکڑے سے پتہ چلی کہ جس میں اللہ تعالٰی نے وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کی نیکی دکھاوا ہے کہ یہ لوگ انسانوں کی عام ضرورت کی چیزیں انسانوں پر سے روکتے ہیں مثلا کسی ضرورت مند نوجوان کو اپنی بیٹی کا رشتہ نہیں دیتے تاکہ معاشرے سے زنا کا خاتمہ کیا جا سکے یہی وہ لوگ ہیں جو یتیم کو دھکے دیتے ہیں اور کسی مسکین کے کھانے کی ترغیب نہیں دیتے پس لوگو ان جاہل علماء سے بچو کیوں کہ انہیں رسول اللہ کی داڑھی کا سائز تو نظر آتا ہے مگر اس داڑھی کا راتوں کو اٹھ کر امت کے غم میں آنسوؤں سے بھیگنا نظر نہیں آتا اور انہیں یہ بات تو اسوہء حسنہ اور سنت رسول نظر آتی ہے کہ غسل خانے میں جاتے وقت پہلے دایاں پاؤں رکھا جائے یا بایاں پاؤں مگر انہیں رسول اللہ کی وہ سنت یاد نہیں کہ ایک دفعہ عید کا دن تھا اور بچے اچھے اچھے کپڑے پہن کر کھیل کود رہے تھے پاس ہی ایک یتیم بچہ پھٹے پرانے کپڑوں میں کھڑا روتے ہوئے یہ کہہ رہا تھا کہ کاش آج میرے ماں باپ زندہ ہوتے تو مجھے بھی اچھے کپڑے پہناتے اتنے میں رسول اللہ پاس سے گزرے انہوں نے اس بچے کو اٹھا لیا اور کہا کہ مت رو آج سے میں تمہارا باپ ہوں اور اسے گھر لے جا کر نہلایا دھلایا اور نئے کپڑے پہنائے اور اچھے اچھے کھانے کھلائے اور یوں وہ آپ کے ساتھ رہنے لگا پس ایسے ہی دین کی سمجھ نہ رکھنے والے علماء کو جھنجوڑنے کیلئے رسول پاک کی ایک حدیثِ پاک پیش کرتا ہوں جو صحیح بخاری اور صحیح مسلم دونوں میں موجود ہے یعنی متفق علیہ حدیث ہےو عن عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنھما قال سمعت رسول اللہ یقول ان اللہ لا یقبض العلم انتزاعا ینتزعھ من الناس و لکن یقبض العلم بقبض العلماء حتی اذا لم یبق عالما اتخذ الناس رؤوسا جھالا فسئلوا فأفتو بغیر علم فضلوا واضلوا ۔۔۔۔۔ متفق علیھ ۔۔۔۔۔ ترجمہ ۔۔۔۔۔ عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ کو فرماتے سنا ہے کہ اللہ تعالی علم کو اس طرح نہیں اٹھائے گا کہ اسے لوگوں (کے سینوں) سے کھینچ لے گا لیکن وہ علم کو علماء کی وفات سے اٹھائے گا حتٰی کہ جب وہ کسی عالم کو باقی نہیں رکھے گا تو لوگ جاہلوں کو اپنا سردار بنا لیں گے پس ان سے سوال کیا جائے گا تو وہ بغیر علم کے فتوٰی دیں گے اور یوں خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے (بخاری و مسلم) ۔۔۔۔۔ اور اس موقع پر چاہوں گا کہ آپ کو قرآن سے بھی حوالہ دوں تو اے لوگو کیا تم نے قرآن میں یہ ارشادِ باری تعالٰی نہیں دیکھا کہ ---- یا ایھا الذین آمنو ان کثیرا من الاحبار و الرھبان لیاکلون اموال الناس بالباطل و یصدون عن سبیل اللہ والذین یکنزون الذھب و الفضۃ و لا ینفقونھا فی سبیل اللہ فبشر ھم بعذاب الیم ---- القرآن ---- ترجمہ: اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو سن لو کہ بلا شبہ مذہبی وڈیروں اور دینی رہنماؤں کی اکثریت یقینی طور پر لوگوں کا مال باطل طریقوں سے کھاتی ہے اور اللہ کے راستوں سے ہٹاتی ہے اور جو سونا چاندی جمع کرتے ہیں اور اسے اللہ کے راستے میں خرچ نہیں کرتے انہیں عذاب الیم کی بشارت سنا دو ۔ تو پس اے میری قوم کے مخلص اور سمجھ دار لوگو اٹھو اور ظلم کا نام و نشان تک مٹا دو اٹھو کہ مظلوم، کمزور اور سمجھ دور لوگ جنہیں آج تک مکار سیاستدان بے وقوف بنا کر استعمال کرتے رہے ہیں کبھی زبان کے نام پر کبھی علاقے کے نام پر تو کبھی ذات برادری کے نام پر پس جاگ جاؤ اور جگا دو ان سیدھے سادے اور بھولے بھالے لوگوں کو اور بتا دو انہیں کہ ان ظالموں نے تمہیں غریب اور بھوکا ننگا رکھنے کے لئے پوری کوشش کی ہے اور آج جو تم پر سیلابوں کی مصیبت آئی ہے اور جو جانی اور مالی نقصان ہؤا ہے اس کے ذمہ دار امریکہ انڈیا اور اسرائیل ہیں اور وہ یوں کہ یہ پچھلے پچاس سالوں سے پاکستان کے غدار سیاست دانوں کو پیسہ کھلا رہے ہیں تاکہ وہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر رکوائے رکھیں اور ان پیسوں میں سے وہ تھوڑا بہت تمہیں بھی کھلا دیتے ہیں تاکہ تمہارا منہ بند رہے ہوش میں آؤ اور اپنے پیروں پر خود کلہاڑی نہ مارو پس اے میری پاک سر زمین کے رہنے والو پاکستان کو ناپاک لوگوں سے پاک کر دو، وہ لوگ جو صرف اس وجہ سے سڑکیں نہریں اور ڈیم نہیں بننے دیتے کہ کہیں ہماری جوتیاں چاٹنے والے ہماری جگہ نہ بیٹھ جائیں اور ہمیں اپنی جگہ نہ بٹھا دیں اور پھر کہیں گن گن کر اگلے پچھلے بدلے نہ اتارنے بیٹھ جائیں لہذا جان بوجھ کر بے بنیاد افواہیں پھیلاتے ہیں کوئی کہتا ہے کہ اگر کالا باغ ڈیم بن گیا تو نوشہرہ ڈوب جائے گا اور کوئی کہتا ہے کہ سندھ صحرا میں بدل جائے گا لیکن ایک سائنسدان ہونے کے ناطے میں یہ بات اچھی طرح جانتا ہوں کہ یہ سب باتیں بکواس ہیں اور نہ صرف یہ کہ یہ باتیں سچ نہیں ہیں بلکہ معاملہ اسکے بالکل الٹ ہے وہ یوں کہ محض کالا باغ ڈیم نہ بننے کی وجہ سے سندھ کا بہت بڑا علاقہ جھیلوں اور دلدلوں میں بدل کر ناقابل کاشت ہو گیا ہے نیز موسم کی تبدیلی کا ایک سینتیس سالہ دور ہوتا ہے جس میں مزید دو چھوٹے دور ہوتے ہیں جنہیں مزید آدھا آدھا کیا جائے تو ان میں سے آدھے سال سیلابوں کی تباہ کاریوں کی وجہ سے انسان اور مویشی مرتے ہیں جبکہ باقی کے آدھے سالوں میں قحط اور خشک سالی آتی ہے اور سوکھے کی وجہ سے بھی جانور اور انسان مارے جاتے ہیں اور یاد رہے کہ ان دونوں قسم کی تباہ کاریوں سے بچاؤ کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ یہ ہے کہ بڑے ڈیموں کی تعمیر کی جائے تاکہ جب پانی ضرورت سے زیادہ ہو تو اسے ڈیم میں سٹور کر کے سیلابی تباہ کاریوں سے بچا جاسکے اور جب خشک سالی کے دن ہوں تو اسی سٹور کردہ پانی کو استعمال میں لا کر خشک سالی کی تباہ کاریوں سے بچا جاسکے اور پھر ایسا کرنا سنت یوسف علیہ السلام بھی تو ہے آخر یہ بدنیت سیاستدان جھوٹی افواہیں پھیلا کر کب تک بھولے بھالے عوام کو بے وقوف بناتے رہیں گے یہ پاکستان ان سیاستدانوں نے نہیں بنایا بلکہ چالیس لاکھ مسلمان شہید ہوئے ہیں تب جاکر یہ پاکستان بنا ہے ایک مرتبہ اشفاق احمد نے اپنے ایک ٹی وی پروگرام زاویہ میں کہا تھا کہ اگر مارکسزم یعنی سوشلزم اور کمیونزم والے نظام میں خدا کا نظریہ شامل کر لیا جائے تو وہ اسلام بن جاتا ہے بلکہ اسلام تو مارکسزم سے بھی زیادہ انسانی بہتری کا نظام ہےاس موقع پر کامل ولی اور حکیم الامت حضرت علامہ ڈاکٹر محمد اقبال علیہ الرحمۃ کی ایک نظم کا حوالہ دینا ضرور پسند کروں گا اور اس نظم کا نام ہے ابلیس کی مجلس شوریٰ جس کے لئے میری خواہش ہے کہ آپ اسے ضرور پڑھیں اور دوستوں کو بھی پڑھائیں۔ علاوہ ازیں محمد رفیع کی آواز میں انقلاب کا یہ گیت مجھے تو بہت پسند آیا امید ہے آپ کو بھی پسند آئے گا گیت کے بولوں کے نیچے یو ٹیوب کا لنک بھی دے رہا ہوں جہاں سے آپ یہ ویڈیو گیت سن اور دیکھ سکتے ہیں جس کے بول کچھ یوں ہیں کہ ---- سماج کو بدل ڈالو ۔۔۔۔۔ سماج کو بدل ڈالو ۔۔۔۔۔ سماج کو بدل ڈالو ۔۔۔۔۔ ظلم اور لوٹ کے رواج کو بدل ڈالو ۔۔۔۔۔ سماج کو بدل ڈالو ۔۔۔۔۔ کتنے گھر ہیں جن میں آج روشنی نہیں ۔۔۔۔۔ کتنے گھر ہیں جن میں آج روشنی نہیں ۔۔۔۔۔ کتنے تن بدن ہیں جن میں زندگی نہیں ۔۔۔۔۔ ملک اور قوم کے مزاج کو بدل ڈالو ۔۔۔۔۔ ملک اور قوم کے مزاج کو بدل ڈالو ۔۔۔۔۔ سماج کو بدل ڈالو ۔۔۔۔۔ ظلم اور لوٹ کے رواج کو بدل ڈالو ۔۔۔۔۔ سماج کو بدل ڈالو ۔۔۔۔۔ سینکڑوں کی محنتوں پر ایک کیوں پلے ۔۔۔۔۔ سینکڑوں کی محنتوں پر ایک کیوں پلے ۔۔۔۔۔ اونچ نیچ سے بھرا نظام کیوں چلے ۔۔۔۔۔ آج ہے یہی تو ایسے آج کو بدل ڈالو ۔۔۔۔۔ آج ہے یہی تو ایسے آج کو بدل ڈالو ۔۔۔۔۔ سماج کو بدل ڈالو ۔۔۔۔۔ ظلم اور لوٹ کے رواج کو بدل ڈالو ۔۔۔۔۔ سماج کو بدل ڈالو ۔۔۔۔۔
http://www.youtube.com/watch?v=a4viK_Y92pM
لوگو میں بابا بلھے شاہ اور علامہ اقبال کا مرید ہوں مگر لوگ انہیں اچھا نہیں سمجھتے لیکن میں یہاں پھر علامہ اقبال ہی کا ایک شعر پیش کروں گا کہ اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں مجھے ہے حکم اذاں لا الہ الاللہ
 اس سے اگلے الفاظ ایک خاص قسم کی اذان کے ہیں جو آپ کو ایک خاص قسم کی نماز کے لئے بلائے گی یہ الفاظ دراصل قرآنِ پاک کی آیات کی پکار ہے اگر یہ اذان آپ کی سمجھ میں آ گئی اور آپ نے اس کے مطابق نماز پڑھ لی یعنی قرآن کی یہ آیات آپ کو جو کچھ کرنے کو کہہ رہی اس کے مطابق عمل کر لیا تو انشاءاللہ ایک ایسی تبدیلی آئے گی جو پاکستان کے ہی نہیں پوری دنیا کے مظلوم عوام کی تقدیر بدل کر رکھ دے گی
وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ هَـٰذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا وَاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنكَ وَلِيًّا وَاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنكَ نَصِيرًا
ترجمہ: آخر کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اُن بے بس مردوں، عورتوں اور بچوں کی خاطر نہ لڑو جو کمزور پاکر دبا لیے گئے ہیں اور فریاد کر رہے ہیں کہ خدایا ہم کو اس بستی سے نکال جس کے باشندے ظالم ہیں اور اپنی طرف سے ہمارا کوئی حامی و مدد گار پیدا کر دے ۔۔۔ القرآن ۔۔۔
پس اگلی مرتبہ الیکشن میں نیک لوگوں کو منتخب فرمائیں اور یاد رکھیں کہ اللہ کی ناراضگی کو اپنے اوپر سے ہٹانے کا یہی طریقہ ہے کہ ہم قومی مفاد کو اپنے ذاتی مفاد سے بہتر جانیں اور کبھی جھوٹی گواہی نہ دیں کیوں کہ اللہ کی کتاب کے مطابق جھوٹی گواہی شرک ہے یعنی سب سے بڑا ناقابلِ معافی گناہ ہے اب آپ خود ہی بتائیے کہ ووٹ دینا کسی پارٹی کے اچھا یا برا ہونے کے بارے میں آپکی گواہی نہیں ہے تو اور کیا ہے اور خدا کے لئے ایک تحریک میں میرا ساتھ دیں اور اس نیک مقصد کو پورا کرنے کے لئے جلسے جلوس کریں ریلیاں نکالیں غرض حکومت پر ہر طرح کا دباؤ ڈالیں تاکہ آئندہ الیکشن کے طریقہء کار کو موجودہ طریقہ سے بالکل مختلف کر دیا جائے یعنی آئندہ پارٹیوں کو سیٹیں نہ ملیں بلکہ ووٹ ملیں اور ہر پارٹی اپنے ووٹوں کی تعداد کے حساب سے اپنی مرضی کے لوگ جہاں سے چاہیں اٹھا کر اسمبلیوں میں بٹھا دیں تاکہ ان کا یہ بہانہ ختم ہو سکے کہ جس کی بنیاد پر پارٹی سربراہان تمام الزام عوام پر ڈال کر خود بری الذمہ ہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر عوام کو ہی کھوٹے کھرے کی پہچان نہ ہو تو اس میں پاٹی سربراہان کا کیا قصور ہے یعنی اگر عوام نے ہی برے اور بد کردار لوگوں کو چن کر اسمبلیوں میں پہنچا دیا ہے تو پھر ہم پر الزام کیسا کیونکہ ہم نے تو قانون کے مطابق ان ہی لوگوں میں سے وزراء کو بنانا ہے حالانکہ وہ اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ بھوکی ننگی عوام پر دو بہت بڑے دباؤ ہیں ان میں سے ایک ہے علاقے کے سردار، وڈیرے، ملک، اور چوہدھری کا خوف اور دوسرا ان بڑے لوگوں سے جڑا ہؤا لالچ یقین جانیئے ان بڑے لوگوں میں سے بعض کو میں ذاتی طور پر جانتا ہوں جنہوں نے اپنے علاقے میں باقاعدہ اعلان کر رکھا ہے کہ الیکشن کے دوران جس محلے سے ہمیں ووٹ نہ ملا وہاں کے بزرگوں کو چوک پر بلوا کر ان کی پگڑیاں زمین پر گرا دی جائیں گی اور انہیں سر عام ننگا کر کے چوتڑوں پر ڈنڈے برسائے جائیں گے تاکہ تمام اہل علاقہ کو عبرت حاصل ہو مزید یہ کہ سیاست ان بڑے لوگوں کے کالے دھندوں کو پناہ دیتی ہے وہ ایسے کہ ان میں سے زیادہ تر نے ڈاکو اور چور پال رکھے ہوتے ہیں جو ان کی آمدنی کا ذریعہ ہوتے ہیں اور جب یہ لوگ الیکشن جیت جاتے ہیں تو اپنے ان پالتو چوروں اور ڈاکوؤں کو پولیس میں بھرتی کروا دیتے ہیں اور یہ باتیں تو وہ ہیں جو میرے ذاتی علم اور مشاہدے میں آئی ہیں اور جن میں کوئی مبالغہ نہیں ورنہ اگر سارا سچ کھول دوں تو شاید آپ لوگ سن بھی نہ سکیں لہذا میری اس بات کا یقین کریں اور اپنی آنے والی نسلوں پر رحم کرتے ہوئے اس سیاسی نظام کو بدلیں وگرنہ چہرے بدلنے سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا یعنی اس نظام کے ہوتے ہوئے اگر کوئی سیاسی رہنما یہ دعویٰ کرے کہ ترقی ممکن ہے تو سمجھ لیجیئے کہ وہ پرلے درجے کا دھوکے باز اور جھوٹا ہے یا پھر پرلے درجے کا بے وقوف ہے یعنی اسے کسی سیاسی جماعت کا سربراہ ہونے کا کوئی حق نہیں پہنچتا لہذا اس پاک سرزمین کو کسی ردی قسم کے جمہوری نظام کی بھینٹ نہیں چڑھایا جاسکتا لہذا خلوص اور عقلمندی کا دعویٰ کرنے والی سیاسی جماعتوں سے اپیل ہے کہ ایک آئینی ترمیم کا مطالبہ کریں اور اسکے ایجنڈے میں سر فہرست الیکشن کے طریقہء کار میں تبدیلی کو رکھیں اس موقع پر مجھے اپنے بڑے بیٹے ابراہیم امجد رفیع جو کہ اس وقت بی ایس سی کا سٹوڈنٹ ہے اس کا خود کا لکھا اور گایا ہؤا گیت یاد آ رہا ہے جس کا عنوان ہے " آگے بڑھ " یہ گیت حسب حال ہے یعنی آپ سے کچھ کرنے کو کہہ رہا ہے دراصل اسے ڈانس کا بھی بہت شوق ہے اور وہ شاہ رخ خان اور مائیکل جیکسن سے متأثر ہے اور عموماً شادی بیاہ کے موقع پر دوست اس سے پرفارمنس کی فرمائش بھی کر دیتے ہیں اور اس نے اپنی ایک آدھ پرفارمنس تو نیٹ پر بھی لوڈ کر رکھی ہے ابراہیم شادی پرفارمنس کے نام سے اور یہ رہے اس کے لکھے ہوئے گیت کے بول آزاد ہو کے بھی نہ دیکھی آزادی ۔۔۔ قربان ہو کے بھی نہ ملی کچھ خوشی ۔۔۔ کب تک سہے گا یہ ستم ۔۔۔ کب تک رہے گا یہ ظلم ۔۔۔ کب تک سہے گا یہ ستم ۔۔۔ آگے بڑھ اب آگے بڑھ (انسٹرومنٹل بریک) قانون ہو کے بھی نہ ملا کچھ سکوں --- آنکھیں ہو کے بھی کچھ دیکھ نہ پاؤں ۔۔۔ کب تک رہیں گی یہ آنکھیں نم ۔۔۔ کب تک رہیں گے یہ دل پر غم ۔۔۔ آگے بڑھ اب آگے بڑھ اب آگے بڑھ اب آگے بڑھ ۔۔۔ قرآن ہو کے بھی کیوں ہے یہ گمراہی ۔۔۔ اسلام ہو کے بھی کیوں چھائی بے بسی ۔۔۔ کہاں گم ہے وہ شان مومن ۔۔۔ کہاں گیا ہے وہ بے باک پن ۔۔۔ آگے بڑھ اب آگے بڑھ اب آگے بڑھ اب آگے بڑھ ۔۔۔ محنت کر کے بھی نہیں ملتی ہے روٹی ۔۔۔ ہر پل ہر لمحہ کیوں روتی ہے زندگی ۔۔۔ کب تک رہیں گے خاموش ہم ۔۔۔ کب تک رہیں گے مد ہوش ہم ۔۔۔ آگے بڑھ اب آگے بڑھ اب آگے بڑھ اب آگے بڑھ ۔۔۔ یہ تو تھا ایک گیت لیکن اگر ہم جاگ گئے تو یہ لفظ ایک حقیقت بن جائیں گے اور پھر میں تو یہ کہوں گا کہ اٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے اور اگر تم اب بھی نہ اٹھے اور اب بھی نہ جاگے تو جانتے ہو کہ اس سلسلے میں اس طرح سے بیٹھ رہنے والوں کے لئے اللہ تعالٰی کی کیا سنت ہے آؤ تمہیں قرآن سناؤں اور اختصار کی خاطر آپ کے لئے صرف ترجمہ لکھے دیتا ہوں تاکہ اس سلسلے میں آپ کو اللہ تعالٰی کی سنت پتہ چل سکے
ترجمۃ القرآن سورہ المائدہ:
اے برادران قوم! اس مقدس سرزمین میں داخل ہو جاؤ جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دی ہے، پیچھے نہ ہٹو ورنہ ناکام و نامراد پلٹو گے" (21) انہوں نے جواب دیا "اے موسیٰؑ! وہاں تو بڑے زبردست لوگ رہتے ہیں، ہم وہاں ہرگز نہ جائیں گے جب تک وہ وہاں سے نکل نہ جائیں ہاں اگر وہ نکل گئے تو ہم داخل ہونے کے لیے تیار ہیں" (22) اُن ڈرنے والوں میں دو شخص ایسے بھی تھے جن کو اللہ نے اپنی نعمت سے نوازا تھا اُنہوں نے کہا کہ "ان جباروں کے مقابلہ میں دروازے کے اندر گھس جاؤ، جب تم اندر پہنچ جاؤ گے تو تم ہی غالب رہو گے اللہ پر بھروسہ رکھو اگر تم مومن ہو" (23) لیکن اُنہوں نے پھر یہی کہا کہ "اے موسیٰؑ! ہم تو وہاں کبھی نہ جائیں گے جب تک وہ وہاں موجود ہیں بس تم اور تمہارا رب، دونوں جاؤ اور لڑو، ہم یہاں بیٹھے ہیں" (24) اس پر موسیٰؑ نے کہا "اے میرے رب، میرے اختیار میں کوئی نہیں مگر یا میری اپنی ذات یا میرا بھائی، پس تو ہمیں اِن نافرمان لوگوں سے الگ کر دے" (25) اللہ نے جواب دیا "اچھا تو وہ ملک چالیس سال تک اِن پر حرام ہے، یہ زمین میں مارے مارے پھریں گے، اِن نافرمانوں کی حالت پر ہرگز ترس نہ کھاؤ" (26) 
اور اسی طرح سے سورہ رعد کی آیت گیارہ ملاحظہ کیجئے ---- لَهُ مُعَقِّبَاتٌ مِّن بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ يَحْفَظُونَهُ مِنْ أَمْرِ اللَّـهِ ۗ إِنَّ اللَّـهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ ۗ وَإِذَا أَرَادَ اللَّـهُ بِقَوْمٍ سُوءًا فَلَا مَرَدَّ لَهُ ۚ وَمَا لَهُم مِّن دُونِهِ مِن وَالٍ ﴿١١﴾ قرآن کی اس آیت کا منظوم ترجمہ علامہ اقبال نے کیا خوب فرمایا ہے
یعنی بقولِ اقبال
 خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
Search for "ibraheem rafi shadi mehndi dance" on You Tube.also search
"wada tera wada shadi dance".and "michael jackson tribute dance".and
"koi ghar na raha".and "aagay barh".
دوستو میرا نام امجد رفیع شاہ کھگہ ہے اورایک سائنسدان ہوں، آپ کے لئے جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم آسان لفظوں میں ڈھالنا چاہتا ہوں تاکہ آپ مغربی دنیا اور گوروں سے خواہ مخواہ متأثر اور مرعوب نہ ہوں بلکہ یہ جو دنیا آپ کو سائنسی طور پر بڑی ترقی یافتہ لگ رہی ہے ایک پرانے زمانے کی غیر ترقی یافتہ دنیا لگنے لگے لہٰذا میری یہ تحریر اسی سلسلے کی ہی ایک کڑی ہے آپ لوگ اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں کہ وہ مجھے میرے تمام نیک مقاصد میں کامیاب و کامران کرے پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو خدا کے عذاب کا شکار ہے کیونکہ اس میں نا انصافی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے یہاں عدالتوں کی تعداد آ بادی کی ضروریات سے بہت کم ہے اور یہاں وہ لوگ اکثریت میں جج کے عہدے پر فائز ہیں جو آرام پرست ہیں اور کام چور ہیں اور ان میں سے بعض تو ایسے بھی ہیں جو بے ایمان بھی ہیں اور یہی حال انتظامی اداروں کا بھی ہے اور یہ صورتِ حال انتہائی خطرناک ہے خدا کے قانون کے مطابق ایسی ریاستیں زیادہ دیر تک قائم نہیں رہتیں اور یہ سُستی، کام چوری اور بے ایمانی صرف عدلیہ اور انتظامیہ تک ہی محدود نہیں ہے اس کا شکار مقننہ یعنی ممبرانِ قومی اسمبلی، ممبرانِ سینیٹ اور تمام صوبائی اسمبلیوں کے ممبران بھی ہیں اور اوپر سے انہیں یہ بھی نہیں معلوم کہ ملک کو ترقی کی راہ پر کیسے ڈالا جائے کیونکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یورپ اور امریکہ کی ترقی کا راز ان کے مادی وسائل میں چھپا ہے حالانکہ ان کی ترقی کا راز روحانیت میں ہے یعنی ان کی ایسی عادتوں میں چھپا ہے جو خدا کو محبوب ہیں اور انہیں سمجھنے کے لئے یا تو ان کے طور طریقوں پر غور کرو اور یا پھر عقلمندی کی عینک چڑھا کر تورات، گِیتا، انجیل اور قرآن کا مطالعہ کرو اور خبردار اس مقصد کے لئے کسی عالم کہلانے والے شخص کا سہارا نہ لینا ورنہ پرلے درجے کی گمراہی میں پڑ جاؤ گے اسکی بجائے اللہ سے مدد مانگنا وہ تمہیں مایوس نہیں کرے گا؛ کیا تم نے قرآن میں یہ ارشادِ باری تعالٰی نہیں دیکھا کہ یا ایھا الذین آمنو ان کثیرا من الاحبار و الرھبان لیاکلون اموال الناس بالباطل و یصدون عن سبیل اللہ والذین یکنزون الذھب و الفضۃ و لا ینفقونھا فی سبیل اللہ فبشر ھم بعذاب الیم القرآن ترجمہ: اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو سن لو کہ بلا شبہ مذہبی وڈیروں اور دینی رہنماؤں کی اکثریت یقینی طور پر لوگوں کا مال باطل طریقوں سے کھاتی ہے اور اللہ کے راستوں سے ہٹاتی ہے اور جو سونا چاندی جمع کرتے ہیں اور اسے اللہ کے راستے میں خرچ نہیں کرتے انہیں عذاب الیم کی بشارت سنا دو ۔
نام کتاب ۔۔۔۔۔۔ اسلام کے خلاف صیہونی سازش بے نقاب (حصہ دوم) ۔۔۔۔۔۔ مصنف ۔۔۔۔۔ امجد کھگہ
 دراصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالٰی کو چُھپنے کی بہت عادت ہے اور ایسا کرنے کے لئے جو طریقہ کار وہ اختیار فرماتا ہے وہ یہ ہے کہ تمام الزام وجوہات اور اسباب پر ڈال دیتا ہے اور ایسا کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالٰی کو وہ نگاہیں بہت پسند ہیں جو اسباب وجوہات کے دھوکہ باز موٹے پردوں کے باوجود آر پار سے خالقِ کائنات کو دیکھ لیتی ہیں پس سلام ہے ان نگاہوں کو دوسری طرف کچھ نا سمجھ علماء قرآن کی اس آیت کا نہایت غلط ترجمہ کرتے ہیں جس کے الفاظ اس طرح ہیں " لیس للانسان الا ما سعٰی " ترجمہ: انسان کو وہی کچھ ملتا ہے جس کے لئے وہ کوشش کرتا ہے۔ اب بے وقوف لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ اکیلے اکیلے فرد کے حوالے سے اللہ تعالٰی کی عمومی سنت کی رو سے یہ دراصل آخرت میں ملنے والی جزا اور سزا کا تذکرہ ہے اور جہاں تک تعلق ہے قوموں کے معاملے کا تو اس معاملے میں اللہ پاک کی سنت یہ ہے کہ اللہ تعالٰی مخلوقِ خدا سے محبت کے تقاضوں کو پورا نہ کرنے والی قوموں اور فساد فی الارض سے گریز نہ کرنے والی قوموں کی نہ صرف ترقی کو ملیامیٹ کر دیتا ہے بلکہ ایسی قوموں کو صفحہء ہستی سے ہی مٹا دیتا ہے جیسا کہ مثلاً اللہ تعالٰی نے فرعون اور اسکی قوم کے معاملے میں کیا لیکن اگلی بات کہنے سے پہلے ایک ایسے ہیرے کا ذکر کرتا چلوں جو کسی جوہری کے ہاتھ لگنے کی بجائے پاکستان میں رہنے والے اندھوں کے ہاتھ لگ گیا اور وہ تھا ڈاکٹر عبدالقدیر خان، اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے بارے میں اتنا بتاتا چلوں کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ترقی یافتہ ملکوں کو اور زیادہ ترقی یافتہ بنا دیا ہے ظاہری اسباب کے حوالے سے یعنی خدا کی قدرت دیکھیئے کہ وہ تھا تو مسلمان سپوت مگر کام غیروں کے آیا وہ ایسے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی ایجاد سے پہلے یورینیم کے اندر یورینیم کے ہلکے آئسوٹوپس کی مقدار بڑھانا جوئے شِیر لانے کے مترادف تھا مگر ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب کی وجہ سے یہ نہ صرف آسان اور سستا ہو گیا بلکہ اس کے ذریعے یہ مقدار بہت زیادہ بڑھانا بھی ممکن ہو گیا یہ ٹیکنالوجی ابھی تک بھی بہت سے ترقی یافتہ ملکوں کے پاس نہیں ہے اور جن ترقی یافتہ ملکوں کے پاس یہ ٹیکنالوجی پہنچی ہے وہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب کے ہاتھوں ہی گئی ہے کیونکہ یہ ٹیکنالوجی ان کی اپنی ذاتی ایجاد ہے اور سادہ لفظوں میں اس ٹیکنالوجی کا مطلب یہ ہے کہ ان ملکوں کا بنایا ہؤا ایٹم بم جو یہ ٹیکنالوجی نہیں رکھتے اگر ہاتھی کے سائز کا ہو تو ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب کی ٹیکنالوجی کے ذریعے بنائے گئے ایٹم بم کا سائز انڈے کے برابر ہوگا مگر اس کے باوجود وہ ان کے بم سے زیادہ طاقت ور ہو گا لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ڈاکٹرعبدالقدیر خان نے جب یہ ٹیکنالوجی ترقی یافتہ ملکوں کو دی جن میں امریکہ اور یورپ کے بہت سے ممالک شامل ہیں جب کہ ابھی بھی یہ ٹیکنالوجی بہت سےترقی یافتہ ممالک تک نہیں پہنچی مثلا یہ ٹیکنالوجی اب تک جاپان کے پاس نہیں پہنچی اور یہ اس وقت کی کہانی ہے جب کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب ینگ تھے اور ابھی پاکستان نہیں آئے تھے یہ وہ وقت تھا جب دنیا کی بڑی بڑی پرائیویٹ کمپنیاں نوجوان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے قدموں پر یوں ڈالرنچھاور کر رہے تھے جیسے مغلیہ دور میں نواب لوگ طوائفوں پر کیا کرتے تھےمگر انہوں نے پاکستان کو ترجیح دی مگر پاکستان نے اس سائنس دان کو کہ جس کی ٹکر کا کوئی سائنس دان اس وقت دنیا میں موجود نہیں ہے گیم سے ہی بالکل باہر کر دیا جب کہ اس کا قصور صرف اتنا ہے کہ وہ قادیانی نہیں ہے تو اس وقت تو کوئی نہ چیخا اور کوئی نہ چلاّیا مگر یہی ٹیکنالوجی جب ایران اورشمالی کوریا کو دی تو بہت شور ہوا ؛ ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب جیسے
لوگوں کے لئے ایک خاص لفظ استعمال ہؤا کرتا ہے اور وہ ہے فرسٹ ہینڈ نالج والے لوگ اور ان کے مقابلے میں دوسرے لوگ ہوتے ہیں جو سیکنڈ ہینڈ نالج والے لوگ کہلاتے ہیں ، سیکنڈ ہینڈ نالج والے لوگوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو دوسروں کی لکھی ہوئی کتابیں پڑھ کر علم والے بنتے ہیں جبکہ فرسٹ ہینڈ نالج والے لوگ وہ لوگ ہوتے ہیں جو صاحب دریافت اور صاحب ایجاد ہؤا کرتے ہیں یعنی یہ دنیا کے سائنس دانوں کو کوئی ایسا کام کر کے دکھاتے ہیں کہ باقی سائنس دان اس کارنامے کو دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں اور ایسےسائنسدان صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں جیسا کہ پچھلی صدی یعنی انیس سو پچپن میں وفات پانے والے ایک جرمن سائنس دان آئن سٹائن تھے یا پھر آج سےتقریباٍ ً ساڑھے تین سو سال سے بھی پہلے پیدا ہونے والے سر آئزک نیوٹن تھے یا پھر آج کے دور میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب ہیں جنہیں کام کرنےکیلئے جو ماحول ملا وہ ماحول تھا ماتحتی کا یعنی بدتمیزانہ جھڑکیوں دھمکیوں اور دباؤ کا اور یاد رہے کہ تخلیقی دماغ والے لوگ ایسے ماحول میں کبھی بھی ٹھیک سے کام نہیں کر پاتے اور جو لوگ ان سے اوپر تھے وہ لوگ ڈاکٹر صاحب سے یہ بد سلوکی دراصل اپنے دل میں موجود ایک مخصوص لالچ کی وجہ سے کر رہے تھے اور وہ لالچ تھا اس ٹیکنالوجی کو بیچنے کا تاکہ ڈاکٹر صاحب ملک سے غداری کے اس ارادے میں ان کے راستے کی رکاوٹ نہ بن سکیں اور وہ ٹی وی کا بیان جو ڈاکٹر صاحب سے لیا گیا وہ اسی دباؤ کانتیجہ تھا اور جو بعد میں اتنے عرصہ تک انہیں نظر بند رکھا گیا وہ بھی اس راز کو کھلنے سے بچانے کی ایک کوشش تھی اور اب وہ شخص جو اس زیادتی کی وجہ تھا یعنی پرویز مشرف وہ آج بیرون ملک بیٹھا ہے اور اہل مغرب کے تعصب کی انتہا تو دیکھئے کہ عبدالقدیر خان کو اس کے کارنامے پر نوبل پرائز دیاجانا چاہیئے تھا مگر اسے نہیں دیا گیا جبکہ اس کے مقابلے میں ایک ایسےپاکستانی کو صرف مرزائی یعنی قادیانی ہونے کی وجہ سے نوبل پرائز دے دیاگیا حالاں کہ وہ سائنسی دریافت جس کا سہرا عبدالسلام کے سر باندھا گیا وہ تو سٹیون وِین برگ کا کارنامہ تھا جب کہ اس میں ایک اور سائنسدان شیلڈن گلاس ہاؤ کا بھی تھوڑا سا حصہ تھا لیکن اس میں عبدالسلام کا کوئی کردارنہ تھا بلکہ یہ شخص تو سائنس کی اے بی سی سے بھی واقف نہ تھا جس کا ثبوت یہ ہے کہ اسے جب کسی تقریب میں کسی سائنسی موضوع پر تقریر کی دعوت دی جاتی تھی تو بجائے اس سائنسی موضوع پر بات کرنے کے یہ لٹریچر پر بات شروع کر دیتا تھا نا انصافی اور تعصب کی بنیاد پر نوبل پرائز بانٹنے کی یہ اکیلی مثال نہیں ہے بلکہ اس کے علاوہ اور مثالیں بھی موجود ہیں مثلا انڈیا کی خاتون وزیر اعظم آنجہانی اندرا گاندھی سے اس کے تمام ہمسایہ ممالک تنگ تھے اور اس نے ایٹمی دھماکہ کیا جس پر اہل مغرب نے بجائے اس کی مذمت کرنے کے اسے امن کے نوبل پرائز سے نواز دیا اور جہاں تک عبدالسلام کو نوبل پرائز دیئے جانے کا تعلق ہے اس کے پیچھے ایک بہت بڑی سازش کارفرما تھی اور وہ سازش یہ تھی کہ امریکہ اور اسرائیل اس شخص کو پاکستان میں کسی اہم عہدے پر دیکھنا چاہتے تھے تاکہ اس شخص سے کوئی اہم کام لیاجا سکے پس بھولا صدر ایوب خان اس سازش کو نہ سمجھ پایا پس وہ شخص پانچ سوقادیانیوں کو سرکاری خرچ پر سائنس کی اعلٰی تعلیم کے لئے بھجوانے میں کامیاب ہؤا تاکہ واپسی پر انہیں اعلٰی سرکاری عہدے ملیں اور یوں قادیانی پاکستان کا عملی کنٹرول حاصل کر سکیں
مسلمانو! آپکے نام میرا ایک پیغام ہے، میں ایک مسلمان سائنس دان ہوں جسےاللہ تعالی نے سائنس میں اتنا ملکہ عطا کیا ہے کہ دماغ کے سگنلوں کےذریعے بڑے بڑے بحری جہازوں کو ریموٹ کنٹرول طریقے سے کنٹرول کر سکتا ہوں لیکن میری ان باتوں کا اعتبار شاید عوام کو نہ آئے لیکن جو لوگ علم میں راسخ ہیں جیسا کہ مثلا بین الاقوامی شہرت یافتہ مسلمان سائنس دان ڈاکٹرعبدالقدیر خان اگر میں انہیں کچھ اشارے دوں تو وہ فوراً بات کی تہہ تک پہنچ جائیں گے اور وہ اشارے ہیں الیکٹرو مایو گرافی اور الیکٹرو انسیسلو گرافی اور اسکے بعد گزارش ہے کہ مجھ پر اللہ تعالٰی کی یہ مہربانی تو ہےہی کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں بڑے بڑے ترقی یافتہ ملک مجھےبونے نظر آتے ہیں یعنی اللہ کی مہربانی سے میں انہیں ایسی ایسی ٹیکنالوجی کے بارے میں بتا سکتا ہوں کہ جس کے بارے میں ابھی تک انہوں نے سوچا بھی نہ ہو لیکن مجھ پر اسکے علاوہ اللہ تعالی کی اور بہت سی مہربانیاں بھی ہیں مثلا اللہ تعالی نے بچپن ہی سے مجھے عربی زبان پر ایسا ملکہ عطا فرمایا کہ جیسے اہل زبان کے علمی ادبی لوگوں کو ہوا کرتا ہے مگر جب سے میری ملاقات وقت کے زندہ ولیوں سے ہوئی ہے سائنس مجھے بڑی چھوٹی چیز لگنےلگی ہے اور دنیا بڑی بے کار جگہ لگنے لگی ہے اور نہ چاہتے ہوئے بھی مجھ سےدنیا داری چھوٹ گئی ہے پس اللہ والوں کی صحبت سے مجھے وہ علم حاصل ہوا کہ علماء کہلانے والے بھی مجھے جاہل لگنے لگے کیونکہ علماء کہلانے والے کتابی کیڑے ہیں اور قرآن کو سمجھنے میں انہوں نے جو ذرائع استعمال کئے ہیں وہ بہت زیادہ قابل اعتبار نہیں ہیں یعنی احادیث وغیرہ جبکہ علماء کے مقابلے میں اولیا کو کشف اور الہام کی سہولتیں حاصل ہوتی ہیں جنکے ذریعے وقت میں سفر کرتے ہوئے رسول اللہ کے زمانے میں پہنچا جاسکتا ہے اور آپ کا دیدار کیا جا سکتا ہے اور اس دور کے حالات کو دیکھا جا سکتا ہے سو اس دوران وہ مناظر دکھائے گئے جن کا علم کتابوں سے حاصل کرنا ممکن نہیں تھا مجھے بڑی عجیب عجیب باتیں پتہ چلیں جنہوں نے مجھے حیران کردیا اور میں انگلیاں دانتوں میں دبا کر رہ گیا اور وہ باتیں یہ ہیں کہ آجکل مسلمان اپنے آپ کو دوسرے مذہب کے لوگوں کے مقابلے میں سیدھی راہ پر سمجھتے ہیں لیکن اللہ تعالی کے نزدیک آجکل مسلمانوں اور دوسرے مذاہب کے لوگوں میں اب کوئی فرق باقی نہیں رہا بلکہ بعض معاملات میں تو وہ مسلمانوں سے بہتر ہیں اور مسلمانوں کے ساتھ یہ بری صورت حال عرصہ ساڑھے تین سو سال سے مسلسل چلی آ رہی ہے اور اس بار تو ہٹنے کا نام ہی نہیں لے رہی ہے اور سچ تو یہہے کہ آج جو اسلام ہمارے پاس  ہے وہ اسلام اصل اسلام نہیں ہے بلکہ ایک بدلا ہوا اسلام ہے یعنی یہ وہ دین نہیں جو آج سے چودہ سو برس پہلے اللہ اور اللہ کے پیارے رسول نے ہمیں دیا تھا بلکہ یہ وہ اسلام ہے جو اسلام دشمن کافروں نے بڑی محنت سے شیطان کے تعاون سے تیار کیا ہے۔ آپ خود سوچیںکہ جن کافروں نے تیئیس سال تک انقلاب کا راستہ روکنے کیلئے اپنے پیاروں کی جانیں گنوائیں ہوں وہ بھلا کیسے چپ بیٹھہ سکتے تھے، حالات کو دیکھتے ہوئے وقتی طور پر چپ کر جانا اور بات ہے لیکن جو کافر قوم اسلام کو بے غیرتی کا سبق سکھانے والا دین کہتی اور بے وقوفی سکھانے والا دین سمجھتی ہو ایسی قوم کیلئے اس دین کو برداشت کرنا بہت مشکل کام ہے یعنی ایسے دین کو برداشت کرنا جو یہ کہتا ہو کہ اپنے منہ کا نوالہ نکال کر دوسرے کے منہ میں ڈالنا اچھا کام ہے، کسی روتے ہوئے کے آنسو پونچھنا نیکی ہے، سود لینا ظلم ہے، جوا کھیلنا دراصل دوسروں کے ارمانوں کی لاشوں پر اپنی خواہشوں کے محل کھڑے کرنا اور خود غرضی ہے اور شراب پینے سے تمہارے منہ سے ایسی بکواس نکل سکتی ہے جس سے لوگ تمہارے دشمن ہو جائیں اسی طرح اسلام میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بہن اور بیٹی پرایا دھن ہے۔ آپ تو جانتے ہی ہیں کہ عرب قوم ایک نہایت غیرت مند قوم تھی؛ لہذا اگر کسی عرب کے ہاں بیٹی پیدا ہوتی تھی تو وہ اسے زندہ دفن کر دیتا تھا تاکہ اسکی بیٹی کو کسی غیر کا ہاتھ نہ لگے، لہذا قرآن میں جب یہ حکم نازل ہوا کہ بیٹی باپ پر حرام ہے اور بہن بھائی پر حرام ہے تو آپ اندازہ لگائیے کہ یہ حکم عربوں پر کتنا بھاری پڑا ہو گا کیونکہ وہ ایسی پابندیوں کے بالکل عادی نہیں تھے دراصل اللہ نے یہ پیغام دیا تھا کہ اماں حوا اور بابا آدم تم سب انسانوں کے ماں باپ ہیں لہذا تم سب انسان ایک دوسرے کیلئے غیر نہیں ہو بلکہ آپس میں ایک ہو لہذا ایک دوسرے کیلئے غیرت محسوس کرنے کی بجائے اپنائیت اور پیار محسوس کرو ورنہ تمہارے اصلی دشمن یعنی شیطان کی تمہیں لڑوانے کی خواہش پوری ہو جائے گی اور تم برباد ہو جاؤ گے۔ پس کچھ لوگ تو عقلمندی کی اس بات کو سمجھ گئے مگر زیادہ تر نے اپنے حیوانی نفس کی پوجا نہ چھوڑی اور رسول اللہ اورآپ کے مٹھی بھر ساتھیوں سے لڑنے کا فیصلہ کیا چونکہ عرب قوم بڑی جنگجو اور سر نہ جھکانے والی م تھی اسلئے وہ لوگ اپنے رسم و رواج اور طورطریقوں کے خلاف کسی چیز کو برداشت نہیں کر سکتے تھے, وہ کیسے برداشت کرسکتے تھے کہ آج تک جس لوٹ مار کو وہ لوگ شکار سمجھتے تھے اسے گناہ کہہ کر روک دیا جائے اور اپنے خون پسینے کی جس گاڑھی کمائی کو وہ اپنا ذاتی مال سمجھتے تھے اسے اللہ کی مہربانی کہا جائے اور اسی بنیاد پر زکواۃ لاگو کر دی جائے اور سود جسے وہ اپنا حق سمجھتے تھے اسے ظلم کہا جائے اور پیارمحبت اور بھائی چارے کے نام پر اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو دوسروں کے حوالے کر دیا جائے اور خود انہیں ہاتھ تک نہ لگایا جائے اور چھوٹے موٹے پیشے،دستکاریاں اور کام کاج کرنے والے لوگوں مثلاً موچی، کمہار اور بڑھئی وغیرہ کو اللہ کے نزدیک زیادہ محترم بتایا جائے یعنی جن لوگوں کو وہ گھٹیا سمجھ کر منہ لگانا پسند نہ کرتے تھے ان کی عزت کرنے پر مجبور کردیا جائے، غرض یہ تمام باتیں ان لوگوں کے نزدیک ان کے ذاتی معاملات میں مداخلت اور ظلم تھا؛ یہی وجہ تھی کہ مسلمانوں کو کافروں کے ساتھ کئی جنگیں لڑنا پڑیں۔ دراصل یہ لوگ نہیں جانتے تھے کہ جس خدا کو وہ محدود طاقطوں کا مالک اور دوسرے خداؤں کا محتاج سمجھ رہے تھے (یعنی ان کے خیال میں بعض خدا اس بڑے خدا کو بعض معاملات میں بلیک میل کرنے اور دھمکانے کی پوزیشن میں تھے یعنی اپنا کوئی کام اس بڑے خدا سے بجائے منت سماجت کے زبردستی کروانے کی پوزیشن میں تھے) لیکن وہ خدا دراصل لا محدود طاقتوں کا مالک تھا اور کسی کا محتاج نہیں تھا بلکہ اسکے علاوہ اور کوئی خدا تھا ہی نہیں پس جلد ہی وہ وقت آ گیا جب اس اکیلےخدا نے اپنے رسول کو عرب کا بادشاہ بنا دیا اور یہ کافر لوگ غصے سے دانت پیستے رہ گئے مگر ان کے سینے میں موجود بدلے کی آگ ٹھنڈی نہیں ہوئی تھی اور یہ اندر ہی اندر انتقام کے منصوبے سوچنے لگے خاص طور پر بعض مسلمانوں پر ان کو بہت غصہ تھا جنہوں نے رسول اللہ کے اشاروں پر بہت سے کافروں کو قتل کیا تھا خاص طور پر حضرت علی جن کے دشمنوں میں کمزور ایمان والے بعض مسلمان بھی شامل تھے کیونکہ حضرت علی رسول اللہ کے ایک اشارے پر کچھ بھی کر گزرنے کو ہر وقت تیار رہتے تھے اور حضرت علی کی وجہ سے ان کمزور ایمان مسلمانوں کے بعض کافر اور مشرک رشتے دار بھی جہنم رسید ہو گئے تھے اسکی وجہ یہ تھی کہ زیادہ تر لوگ رسول اللہ کے حیرت انگیز معجزات کو دیکھ کر ایمان لائے تھے جبکہ حضرت علی تو چونکہ رسول اللہ کی گود میں کھیل کر جوان ہوئے تھے اور رسول اللہ کے عظیم کردار کے بچپن ہی سے چشم دید گواہ تھے لہذا حضرت علی کو نبی کے نبی ہونے کا بچپن ہی سے پکا یقین تھا پس وہ رسول کا کہا ماننے کو اللہ کا کہا ماننا سمجھتے تھے۔
بدلے کی آگ کا نتیجہ:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بدلہ لینے کیلئے کافروں نے جو طریقہ سوچا وہ یہ تھا کہ مسلمان بن کر بدلہ لیا جائے اس مقصد سے ایک مسجد بھی تعمیر کی گئی جو اصل میں دین کے خلاف سازشوں کے اڈے کے طور پر تعمیر کی گئی تھی، جس کی اطلاع اللہ تعالی نےاپنے رسول کو وحی کے ذریعے کر دی اور اس مسجد کو مسجد ضرار کا نام دیا
 اور اس مسجد کو فورا گرا دینے کا حکم دے دیا اور یوں اللہ کے حکم سے اللہ کے رسول نے یہ مسجد گروا دی اسی طرح منافقوں کے اور بھی کئی منصوبے بذریعہ وحی ناکام بنا دیے گئے لہذا یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے منافقوں نے عارضی طور پر خاموشی اختیار کرنے میں ہی بھلائی سمجھی اور رسول خدا کی
وفات کا انتظار کرنے لگے اور ایک طویل المعیاد منصوبے پر غور کرنے لگے اس مقصد کیلئے منافقوں کو کمزور ایمان والے ایسے مسلمانوں کی ضرورت تھی جنکے دل لالچی ہوں پس انہوں نے اسلام کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کیلئے ایک پانچ سو سالہ منصوبہ بنایا
 رسول خدا کی وفات کے بعد:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بدلے کے منصوبے کی پانچ سو سالہ حکمت عملی یہ تھی کہ صحابہ کو استعمال کر کے ایسے لوگوں کو آگے آنے یعنی رسول اللہ کی وفات ظاہری کے بعد اقتدار میں آنے سے روکا جائے جو اسلام کے پیغام کو اچھی طرح سمجھتے ہوں مثلاحضرت علی اور اسکے علاوہ حکومتی عہدوں پر زیادہ سے زیادہ اپنے آدمیوں کو
رکھوانے کی کوشش کی جائے یعنی اندر سے کافر اور اوپر سے مسلمان لوگوں کو ملک کے چپے چپے میں پھیلا دیا جائے تاکہ اسلام کے پیغام کو جتنا ہو سکے پھیلنے سے روکا جائے یا اسلام کے بارے میں اپنی مرضی کی باتیں پھیلائی جائیں اور اسلام کا چہرہ اپنی خواہشات کے مطابق بگاڑ لیا جائے، لہذا اس مقصد کے لئے خفیہ ایجنسیاں اور ادارے بنائے گئے اور ان ایجنسیوں اور اداروں کے آدمیوں کی ڈیوٹیاں لگائی گئیں جن میں سے بعض کی ڈیوٹی یہ تھی کہ سرکاری اور غیر سرکاری ہوٹلوں میں دور دراز سے آنے والے وہ مسافر جو حدیث اکٹھا کرنے اور اسلام کے بارے میں معلومات لینے کیلئے آئے ہوں انہیں سفید کپڑوں میں رہ کر اس منصوبہ بندی کے تحت ایسے لوگوں کا پتہ بتایا جائے جو خود سفید کپڑوں میں جھوٹی حدیثیں سنانے اور گمراہ کرنے کی ڈیوٹی پر لگے ہوں اور یہ تربیت یافتہ گمراہ کار حدیثیں اکٹھی کرنے والے اللہ کےنیک بندوں کو اس ہوشیاری سے گمراہ کرتے تھے کہ اگر دس مختلف لڑیوں سے ھی ان احادیث کی سچائی کو پرکھا جائے تو بیانات ملتے ہوں اور یوں ان لوگوں نے علماء بن کر اور دین کے وڈیرے بن کر دینی معاملات کو مکمل طور پر اپنے کنٹرول میں کر لیا اور اسلام کی خوشبو تک کو عوام تک پہنچنے سے روک دیا مگر حدیثیں اکٹھی کرنے والے لوگ بھی مجاہد قسم کے لوگ تھے وہ بھی اتنی آسانی سے ہار ماننے والے نہیں تھے اور محمد بن اسماعیل بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور مسلم رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ کو بھی اندر سے کافر اور اوپر سے مسلمان لوگوں کی اس سازش کا احساس تھا اسی لئے انہوں نے بھی صحیح سے صحیح حدیثیں اکٹھی کرنے کے لئے اپنا پورا زور لگا دیا تھا اور احتیاط کے طورپر مسلمانوں کو یہ وصیت بھی کر گئے تھے کہ ہم نے اپنی طرف سے پوری احتیاط کی ہے پھر بھی اے مسلمانو اگر تم کسی حدیث کو قرآن سے ٹکراتا ہوا دیکھوتو اسے دیوار پر دے مارو اور ہرگز قبول نہ کرو کیونکہ قرآن میں تواتر (تسلسل) اور اجماع ( امت کا اکٹھ ) کی شرط موجود ہے جو کہ حدیث میں موجود نہیں ہے اور ویسے بھی قرآن میں اللہ تعالی کا فرمان ہے کہ
 "نحن نزلنا الذکر و انا لہ لحافظون" [القرآن] ترجمہ: ہم نے ہی اس ذکر کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اسکی حفاظت کرنے والے ہیں۔ لہذا کافر لوگ قرآن کو تو نہ بدل سکے مگر اسکی تفسیر تشریح مفہوم اور متعلقہ حدیثوں کے راستے جتنی گمراہی پھیلا سکتے تھے پھیلا دی پھر بھی تاریخ اسلام کے کئی ایسے اچھے
دور بھی گزرے ہیں جب مسلمانوں کو سچائی تک پہنچنا نصیب ہوا ان ادوار میں مسلمان ایک قوم کی حیثیت سے مالی طور پر مضبوط اور سائنسی و علمی طور پر بلند رہے ہیں یہ وہ دور تھا جب یورپ غربت اور جہالت کے اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا اور یورپی لوگ مسلمانوں سے جلتے تھے اور خدا سے شکوہ کرتے تھے کہ اے خدا تیرے ماننے والے تو ہم ہیں پھر مسلمان نام کی اس بے دین قوم پر یہ مہربانیاں کیوں؟ (کیونکہ رسول اللہ کے زمانے کے بعد آنیوالے عیسائی عوام جنہوں نے ظاہر ہے کہ اس عظیم ہستی اور اسکے عظیم معجزات کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا تھا مسلمانوں کو کافر سمجھتے تھے ورنہ رسول اللہ کے زمانے میں بہت سے عیسائی آپ پر ایمان لے آئے تھےحتی کہ ان میں سے بعض تو آپکی اجازت سے مسلمان بھی ہو گئے تھے تاہم یاد رہے کہ معجزات کے معاملے میں دوسرے ادیان کی طرح اسلام میں بھی اس دین کی اپنی کتاب یعنی قرآن میں معجزاتِ محمدی کا ذکر صریحاً کم ہی آیا ہے مثلاً صرف شق القمر اور معراج کے معجزات کا ذکر ہی واضح طور پر آیا ہے یا پھر معجزات نبوی کا ذکر پچھلی کتابوں میں پیشین گوئی کے طور پر آیا ہے اور یہ معاملہ دوسرے ادیان کے ساتھ بھی ہے یعنی حضرت عیسی کے معجزات کا ذکر انجیل میں نہیں ہے بلکہ بعد میں آنیوالی کتاب یعنی قرآن میں ہے اسی طرح حضرت موسی کے معجزات کا ذکر تورات کی بجائے انجیل اور قرآن میں ہے جو کہ تورات کے بعد کی کتابیں ہیں البتہ قرآن میں ایسی آیات پائی گئی ہیں جن سے معجزات کا ہونا ثابت ہوتا ہے مثلا کفار کا رسول اللہ کو جادوگر کہنا یا ایسا شخص کہنا جس پر جنات کا سایہ ہو ظاہر ہے ایسے الفاظ کسی ایسی شخصیت کے بارے میں کہے جا سکتے ہیں جس کے ہاتھوں کچھ ایسی باتیں ظاہر ہو رہی ہوں جن پر جادو کا گمان ہو سکتا ہو تو صاف ظاہر ہے کہ یہ معجزات تھے تاہم یہ معجزات کیسے تھے اس کا پتہ ہمیں سچی نہ کہ صحیح احادیث سے چلتا ہے اور پتہ یہ چلا کہ آپکے معجزات ہر طرح کے تھے یعنی موت کو زندگی میں بدلنے والے معجزے بھی آپ کے معجزات میں شامل تھے لیکن ایک خاص بات جو اسلام سے وابستہ معجزات میں ہے وہ باقی نبیوں کے معجزات سے بہت مختلف ہے گو کہ معجزات کے بارے میں اسطرح کی بات نہیں کہنی چاہیئے کیونکہ معجزات نبیوں کے نہیں ہوتے بلکہ خدا کے ہوتے ہیں لیکن جو بات قابل ذکر اور اہم ہے وہ یہ ہے کہ پہلے نبیوں کے معجزات فرمائشی تھے یعنی زیادہ تر کافروں کی فرمائش پر دکھائے جاتے تھے نہ کہ مومنوں کے اطمینان قلب کے لئے بلکہ پچھلے نبیوں کے زمانے میں تو بغیر فرمائش کے بھی سامنا ہوتے ہی کافروں پر حجت پوری کرنے کے لئے معجزات دے مارے جاتے تھے اور وہ کافر بھی چونکہ ہر زمانے کے کافروں کی طرح پکے کافر ہوتے تھے لہذا معجزہ دیکھنے کے بعد جھٹ بول اٹھتے تھے کہ یہ تو جادو ہے لہذا کافروں کی اسی بولتی کو بند کرنے کیلئے اللہ تعالی نے اسلام کے شروع کے دنوں میں کافروں کی فرمائش پر جھٹ سے معجزے دکھانے کی بجائے قرآن میں اس طرح کی آیتیں نازل کرنا شروع کر دیں کہ بعد میں جب معجزے دکھانے کی باری آئے تو ان کافروں کا جادو کہہ کر جھٹلانے والا پرانا سٹائل جو پچھلے نبیوں کے زمانے کے کافروں میں بھی موجود تھا الٹا ان کافروں کی جگ ہنسائی کا باعث بن جائے ویسے آجکل علماء کا خیال ہے کہ شریعت محمدی کے آنے کی وجہ سے پچھلی شریعتیں منسوخ ہو گئی ہیں لیکن حیرت کی بات ہے کہ ایسا خیال رکھنے کے باوجود یہ لوگ اپنے آپ کو عالم سمجھتے ہیں حالانکہ یہ بدترین جاہل ہیں کیونکہ یا تو یہ لوگ قرآن کو پڑھتے نہیں یا سمجھے بغیر پڑھتے ہیں کیونکہ قرآن میں ایسی آیتیں موجود ہیں جو صاف طور پر اس خیال کو غلط ثابت کر رہی ہیں آپ یہیں سے اندازہ کرلیں کہ رسول اللہ نے شادی شدہ مرد اور شادی شدہ عورت کیلئے سنگسار کی جو سزا مقرر کی ہے وہ قرآن میں لکھی ہوئی نہیں ہے بلکہ آپ نے یہ حکم تورات سے لیا ہے۔ نیز اس بات کو یہ جاہل علماء کیوں بھول جاتے ہیں کہ جب یہودی جو کہ رسول اللہ کو تورات کی پیشین گوئیوں کے سبب اپنے بیٹوں کی طرح پہچانتے تھے، اپنا ایک جھگڑا رسول اللہ کے پاس لائے تاکہ اللہ کے رسول قرآن کی روشنی میں اس جھگڑے کا فیصلہ فرما دیں تو اللہ تعالی نے یہودیوں کی اس حرکت کا برا مانا اور قرآن میں آیات نازل کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ "اے نبی یہ لوگ تمہارے پاس کس لئے آئے ہیں جبکہ انکے پاس میری کتاب موجود ہے"۔ لہذا اللہ کے رسول نے تورات منگوائی اور یہودیوں کے جھگڑے کا فیصلہ قرآن کی بجائے تورات میں سے کیا پس ثابت ہوا کہ دین نام ہے اللہ تعالی کی تمام کتابوں کے مجموعے کا اور تمام انبیاء کے کردار کا لہذا جو اس حقیقت کو نہ مانے تو پھر وہ کافر ہے یا جاہل ہے یعنی اگر حقیقت کو پہچان جانے کے باوجود انکاری ہے تو کافر ہے ورنہ جاہل اسی لئے آجکل کے یہودی اور عیسائی جاہل ہیں اسلئے کہ رسول اللہ اور قرآن کو نہیں مانتے نہ جاننے کی وجہ سے اور مسلمان علماء کافر ہیں اس لئے کہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ تورات اور انجیل آسمانی کتابیں ہیں اور حضرت موسی اور حضرت عیسی دونوں ہی اللہ کے پیغمبر ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ پچھلی کتابوں میں سے یا قرآن میں سے کوئی ایک آیت بھی اس وقت تک منسوخ نہیں ہو سکتی جب تک کہ قرآن بذات خود کہہ کر اسکی وضاحت نہ کر دے کہ فلاں حکم آج سے منسوخ ہے۔ جیسا کہ قرآن میں ارشاد باری تعالی ہے کہ ہم نے یہودیوں پر ان کے بعض گناہوں کی وجہ سے ناخنوں والے جانور حرام کر دیئے تھے اور اب اس نئے حکم کے ذریعے آ ج ان پر بھی حلال کر رہے ہیں۔ پس اے مسلمانو تم مسلمان علماء کی جہالت کا یہیں سے اندازہ کر لو کہ انہوں نے اب تک کسی مسلمان کو آج تک کوئی ناخنوں والا جانور نہیں کھانے دیا (سوائے خرگوش کے) محض جھوٹی حدیثوں کی مدد سے جو یہودیوں نے مسلمانوں کی صفوں میں گھس کر صرف اس حسد سے پھیلائی ہیں کہ اللہ تعالی نے ہمیں کیوں سزا کے طور پر آج تک ان جانوروں کے گوشت سے لطف اندوز نہیں ہونے دیا۔ پس سمجھہ جاؤ اے مسلمانو کہ موجودہ اسلام مشرکین مکہ اور حاسد یہودیوں کی دن رات کی محنت کا نتیجہ ہےاور مسلمانوں کے بے وقوف علماء انکے ہاتھوں کھلونا بنے ہوئے ہیں۔ گو کہ اب مشرکین مکہ بھی مرکھپ گئے اور جنگ خندق کے موقع پر مسلمانوں کا ساتھ نہ دینے والے کافر یہودی بھی مرکھپ گئے مگر جانے سے پہلے مسلمانوں کو خاص طور پر مسلمانوں کے علماء کو غیر محسوس طریقے سے کفر کی گاڑی پر چڑھا گئےاور اب انہیں کچھ کرنے کی ضرورت بھی نہیں اور انکا کام آٹومیٹک طریقے سے ہو رہا ہے ۔ ہاں میں رسول اللہ کے دور کے بعض یہودیوں کو کافر کہہ رہا ہوں حالانکہ جانتا ہوں کہ کسی اہل کتاب کو اس وقت تک کافر کہنا جرم ہے جب تک کہ اس سے کفر والی حرکت سرزد نہ ہو یعنی اپنی زندگی ہی میں کسی نبی کودیکھنا نصیب ہو اور پہچان لینے کے باوجود انکار کردے۔ اب چونکہ کوئی نبی نہیں آئے گا لہذا اب اہل کتاب کے صرف علماء کافر ہیں عوام نہیں بالکل ایسے جیسے مسلمانوں کے بھی صرف علماء کافر ہیں عوام نہیں (اگر وہ واقعی عالم ہونے کا دعوٰی رکھتے ہیں تو) لوگو تم میں سے شاید کوئی نہ جانتا ہوگا کہ میری اس کڑوی لکھائی کی وجہ کیا شے ہے یا کیا واقعہ ہے، اس سے پہلے کہ میں وہ واقعہ بیان کروں، تقابلی جائزے کی خاطر اسلام کے اکابرین میں سے کسی ایک یا زیادہ کے کردار سے مشعل راہ بنانے کی غرض سے مثال پیش کروں گا۔ یہ واقعہ میرے مولا علی المرتضٰی کا ہے۔ آپ ایک مرتبہ ایک جنگ کےدوران ایک کافر کو نیچے گرا کر اسکے سینے پر بیٹھہ کر اسکی گردن میں خنجر مار کر اسے قتل کرنے ہی والے تھے کہ اسنے آپ کے منہ پر تھوک دیا تو آپ نے اس شخص کو معاف کر دیا حالانکہ ایسا کرنے پر لوگوں نے آپ کو خوب ملامت کیا شرمندگی دلائی حتی کہ بزدل اور بے غیرت کے خطابات دیئے گئے مگر آپ نے توحید کا حق ادا کرتے ہوئے یہ ثابت کر دیا کہ اہل توحید جیسا کہ اللہ تعالی نے قرآن میں مومنوں کی ایک ایسی قسم کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے جو لوگوں کی لعنت ملامت کی پرواہ نہیں کرتے پس یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنے نفس کو بھی خدا کا شریک نہیں بناتے یعنی یہ تک نہیں چاہتے کہ جو جنگ لڑی جا رہی ہے اسمیں اپنے ذاتی غصے کا ایک ذرہ تک بھی شامل کریں سبحان اللہ اسے کہتے ہیں خدا کے لئے خالص پن یہ ہوتی ہے اصل توحید کہ دشمنی بھی اللہ کی رضا کیلئے اور دوستی بھی اللہ کی رضا کیلئے اور اپنی رضا کو اللہ کی رضا میں گم کر دیا جائے بے شک اللہ والے شہید ہونے سے پہلے ہی اپنی زندگی میں ہی اپنے طور طریقوں سے خدا کے ہونے کی گواہی دے دیتے ہیں اور انبیاء کی تو تم دھول کو بھی نہیں پہنچ سکتے اے بھولے لوگو اور نبیوں کو عام انسان کہنے والو اپنی عقل کا ماتم کرو اور دیکھو قرآن اٹھا کر ان
عظیم ہستیوں کے کردار کو اور اے نبیوں کی سنت پر چل پانے کا دعوٰی کرنے والو یاد کرو لوط علیہ السلام کے طریقے کو کہ جب انہوں نے وقت کے بدترین لوگوں کو راہ راست پر لانے کیلئے اپنی بیٹیاں پیش کر ڈالیں۔ ہے کوئی تم میں سے مائی کا لال جو ایسا کرسکے اور رسول اللہ کا وہ انداز بھول گئے کہ آپ نے اپنے ایک نوکر کو لے پالک بنا لیا اور یہ اپنانا کوئی زبانی کلامی دعوٰی نہیں تھا بلکہ آپ نے اپنی وہ پھوپھی زاد اس سے بیاہ ڈالی جو آپ کے قبضے میں تھی۔ پس ہے کوئی آپ میں سے جو اتنا دل کھول سکے یا پھر کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ لوگوں کی نظروں میں صرف داڑھی ہی سنت رسول ہے دراصل مجھے حیرت ہے کہ اچھے اچھے علماء کہلانے والے لوگ بھی داڑھی کو سنت رسول سمجھتے ہیں حالانکہ یہ اس دور کا رواج تھا یعنی اس دور میں بغیر داڑھی کےمرد کا سرے سے کوئی تصور ہی موجود نہ تھا جس کا مطلب یہ ہے کہ ابو جہل اور ابو لہب سمیت تمام کافر داڑھیوں والے تھے ایک مرتبہ رسول اللہ کے سامنے شلوار کو پیش کیا گیا جو ہمارے علاقوں کا لباس ہے تو آپ نے اسکی بہت تعریف کی اور یہ الفاظ فرمائے کہ اس سے زیادہ ساتر لباس اور کوئی نہیں مگر آپ نے اسے پہنا نہیں جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ مباح باتوں میں معاشرے کے ساتھہ چلنا سنت رسول ہے یعنی ایسی باتیں جنکا نہ کچھہ گناہ ہو نہ کوئی ثواب لہذا اگر اس اعتبار سے دیکھا جائے تو چونکہ آجکل کے معاشرے کا زیادہ تر رواج داڑھی صاف رکھنا ہے اسلئے اس لحاظ سے داڑھی صاف رکھنا ہی سنت قرار پائے گا لیکن سچ بات یہ ہے کہ رسول اللہ کی ہو بہو نقل کرنا اگر سنت میں شمار ہوتا تو ہم آج بھی بجائے میزائلوں، جہازوں، آبدوزوں اور ٹینکوں سے لڑنے کے تیر اور تلوار سے لڑ رہے ہوتے یہی غلطی سکھوں نے کرپان (خنجر) کے معاملے میں اپنے گرو کے فرمان کو سمجھنے میں کی ہے جس کا خمیازہ انہوں نے انڈیا کی سابق خاتون وزیر اعظم اندرا گاندھی کے ہاتھوں بھگتا (میرے ماں باپ ان پر قربان(گو کہ وہ کرشن جی مہاراج علیہ السلام اور رام علیہ السلام کی طرح اللہ تعالی کے نبی نہیں تھے مگر اپنے وقت کے مجدد تھے لہذا میں ہر اس ہستی سے محبت رکھتا ہوں جس کا تعلق اللہ تعالی سے جڑا ہونے کے بارے میں مجھے زندہ ولیوں نے مطلع کر دیا ہے)) یہ ساری باتیں تمہید کے طور پر مجھے مجبوراً کہنا پڑ رہی ہیں اسلئے کہ علم کا لبادہ پہنے ہوئے اندر سے جاہل ملاؤں نے معصوم عوام کے ذہنوں کو اسلام دشمن مشرکین مکہ اور متعصب یہودیوں کی پانچ سو سالہ سازش (جو انہوں نے شیطان کے تعاون سے مل جل کر رسول خدا کی وفات کے فوراً بعد ہی تیار کی تھی اور جس کے مقاصد چار سو سال ہی میں حاصل کر لئے گئے تھے) کے تحت گندگی سے بھر دیا ہے لہذا اسے صاف کرنے میں کچھہ وقت لگ سکتا ہے سو جیسا کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ "میری امت پر ایک ایسا وقت بھی آئے گا جب لوگ پھر سے برائی کو اچھائی سمجھہ کر کر نے لگیں گے (یعنی زمانہ قبل از اسلام کی غیرت و حمیت پھر سے جاگ جائے گی) اور اچھائی کو برائی سمجھا جانے لگے گا پس یہ وہ وقت ہوگا جب بڑے بڑے علماء کے سر چکرا جائیں گے" لہذا سمجھہ جاؤ اے مسلمانو کہ یہ وہی دور ہے کہ جب بے غیرتی کو بری چیز سمجھا جا رہا ہے حالانکہ بے غیرتی ایمان کی پہلی شرط ہے کیوں کہ یہ اللہ پاک کے پسندیدہ جذبے یعنی عاجزی سے جنم لیتی ہے اور غیرت مندی کو اچھا سمجھا جا رہا ہے جبکہ غیرت مندی اگر ان خواتین کے معاملے میں ہو جن سے نکاح کو اللہ تعالی نے حرام قرار دیا ہے تو ایسا کرنے والا گویا رب کائنات کو چیلنج کر رہا ہے لہذا اسے خدا کے عذاب کی توقع رکھنی چاہیئے کیونکہ یہ اسلام کے نظریۂ بھائی چارہ کے خلاف ہے اور کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ غیرت مندی کہاں سے جنم لیتی ہے یاد رہے کہ ایسی غیرت مندی جنم لیتی ہی چند بری چیزوں کے ملاپ سے اور وہ بری چیزیں ہیں غرور، دوسروں کو حقیر سمجھنا، نفرت اور حسد اور جان لو کہ یہ تمام چیزیں کبیرہ گناہ ہیں لہذا کان کھول کر اللہ تعالی کا یہ ارشاد سن لو کہ تکبر یعنی "بڑائی صرف میری چادر ہے اور جو اسے اوڑھنے کی کوشش کرے گا میں اسے توڑ دوں گا"۔ اور یاد رہے کہ اس پاک سر زمین کے آئین کی پہلی دفعہ میں یہ بات لکھی ہے کہ حاکمیت اعلی نہ تو صدر کی ہو گی نہ وزیر اعظم کی بلکہ اللہ تعالی کی ہو گی لہذا حقیقی نفاذ اسلام سے مراد دراصل غیرت مندی کا خاتمہ اور بے غیرتی کا عملی نفاذ ہے کیونکہ اللہ تعالی کو وہ ماحول پسند ہے جس میں نہ صرف انسانوں اور جنات کے جسم اسے سجدہ کر رہے ہوں بلکہ ان کی روحیں بھی سجدہ ریز ہوں پس اس حالت کو عملاً قائم کرنے کیلئے سخت سے سخت سزاؤں کا اہتمام کرنا ہو گا جس کے تحت کنواری لڑکیوں کو پردہ کروانے والوں کو سزائے موت دی جائے گی اور وہ بھی زندہ جلانے کی شکل میں اور نہ تو ایسے شخص کا نماز جنازہ پڑھانے کی اجازت ہو گی اور نہ اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنے کی اجازت ہو گی اور یوں جب اللہ کے فضل سے مکمل نفاذ اسلام کر چکیں گے اور پاکستان جو کہ پاک لوگوں کے رہنے کی جگہ ہے اسے ناپاک لوگوں سے پاک کر دیا جائے گا جو فتنہ کی جڑ ہیں تو انشاءاللہ اگلا مرحلہ بالکل فتح مکہ کےانداز میں اور مدینہ سے کوچ کے انداز میں انڈیا پر دھاوا بولنے کا مرحلہ ہو گا جو زمین کے لالچ میں نہیں بلکہ اللہ کا نظام نافذ کرنے کیلئے ہونا چاہیئے تاکہ وہاں کے مظلوم عوام کو کفر کے عذاب اور ذات پات، اونچ نیچ اور چھوت چھات کے وبال سے بچایا جاسکے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جبکہ علماء میں سے بعض تو ایسے ہیں جن کا مذہب ضد ہے دراصل یہ وہ سٹائل ہے جو رسول اللہ کے زمانے کے یہودی علماء کا تھا جو آجکل مسلمان علماء میں پایا جاتا ہے کیونکہ اس دور کے یہودی علماء تورات میں تحریف کیا کرتے تھے یاد رہے کہ لفظ تحریف کے معنی تبدیلی نہیں جیسا کہ آجکل غلطی سے یہ معنی مراد لئے جارہے ہیں بلکہ اس سے مراد کلام الہی کی آیات کے استعمال کے مقصد کو بدلنا ہے اور یاد رکھیئے کہ انجیل اور بائبل ایک نہیں ہیں کیونکہ بائبل دراصل عیسائیوں کی حدیث اور فقہ کی کتابوں پر مشتمل ہے اسی لئے ہر سال بدل جاتی ہے۔ بات یہ ہے کہ مسلمانوں کی طرح پچھلی امتیں بھی گمراہ ہیں اور ان میں بھی گمراہی انکی حدیث اور فقہ کی کتابوں کے راستے ہی آئی ہے جب کہ تورات اور انجیل آج بھی ہمارے نبی کی نبوت کی گواہی دے رہی ہیں اورعلماء کو چھوڑ کر بھولے بھالے عیسائی اور یہودی عوام ہندوؤں کی طرح آج بھی ایک نبی کے آنے کا انتظار کر رہے ہیں مگر نہیں جانتے کہ جس آخری نبی کے آنے کا انتظار کر رہے ہیں وہ تو آج سے چودہ سو برس پہلے آ بھی چکا جبکہ دوسری طرف مسلمان علماء میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو خدا کی بجائے اپنے حیوانی نفس کی پوجا کرتے ہیں اور اگر تمہیں ان کی پرائیویٹ زندگیوں کا حال پتہ چلے تو تم یہ دیکھہ کر حیران رہ جاؤ کہ یہ  لوگ دین کو عوام کے سامنے جان بوجھہ کر سخت بنا کر اسلئے پیش کرتے ہیں تاکہ عوام کو ان چیزوں سے روکا جاسکے جن کی ضرورت ان علماء حضرات کو خود ہے گویا علماء نہیں شیطان کے چیلے ہیں دراصل خدا کو دل و جان سے سجدہ کرنا ایسے لوگوں پر بھاری ہے جو خاشعین (خدا کے مقام کی سمجھہ رکھنے کی وجہ سے کپکپی جن کی روح تک اتر جاتی ہے) نہیں ہیں۔ موسیقی کو حرام بتانے والی جھوٹی حدیثیں کافروں نے اسلئے تیار کیں تاکہ مسلمان لشکر کے پیچھے موجود جنگی ترانے گا کر جوانوں کا جوش بڑھانے والی لڑکیوں سے نجات حاصل کی جا سکے اور علماء اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ رسول اللہ کے زمانے میں عورتیں بھی مسجدوں میں ْنمازیں پڑھا کرتیں تھیں اور رسول اللہ کے زمانے کے بعد بھی کافی عرصہ تکیہ معمول جاری رہا بعد میں ایک حاکم نے اس معمول کو جبراً ختم کیا تاہم جن آیات سے آجکل کے جاہل ملاؤں نے پردے یا حجاب کا مفہوم مراد لیا ہے رسول اللہ کے زمانے میں رسول اللہ کے ساتھہ رہنے والے لکھے پڑھے صحابہ نے ہرگز وہ مفہوم نہیں لیا تھا البتہ غیرت کے مارے ہوئے عرب کے دوردراز علاقوں کے وہ دیہاتی بدو جو غیرت کی وجہ سے رسول اللہ سے سخت دشمنی رکھتےتھے اور ان کی اس دشمنی کا ذکر قرآن میں بھی موجود ہے اور جو غیرت مندی کی وجہ سے اپنی معصوم بیٹیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیتے تھے انہوں نے ضروریہ مفہوم لیا تھا تو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ان آیات میں ایسی کیا باتیں کہی گئیں جن کی وجہ سے آجکل کے ملاؤں کے ذہن میں اتنی بڑی غلط فہمیاں پیدا ہو گئیں. تو سنئے اس سوال کا جواب لیکن اس جواب کو سمجھنے کیلئے پہلے آپ کو اس ماحول کو سمجھنا پڑے گا جو اس دور میں تھا دراصل اس دور میں ہر چوتھے آدمی کے پاس لونڈیاں ہوا کرتی تھیں جنہیں وہ مخالف قبیلے کے لوگوں کو قتل کرکے حاصل کرتے تھے یعنی وہ عورتیں لوٹا ہوا مال ہوا کرتی تھیں اور ان لونڈیوں کے مالکوں میں سے اکثر ان لونڈیوں کو پیسہ کمانے کا ذریعہ بناتے تھے یعنی جسم فروشی کے دھندے پر لگا دیتے تھے اسکے علاوہ اس دور کی عورتوں کا لباس آجکل کے انڈیا کے صوبہ راجھستان اور بیکانیر کے علاقے کی عورتوں کے لباس سے ملتا جلتا ہؤا کرتا تھا یعنی ننگا ننگا سا بس اتنا فرق تھا کہ عرب عورتوں کا لباس اس اعتبار سے ذرا زیادہ ننگا ہؤا کرتا تھا کہ انڈیا کے ان علاقوں کی عورتوں کے لباس میں کسی حد تک ڈھیلا ڈھالا پن پایا جاتا ہے جبکہ رسول اللہ کے زمانے کی عرب عورت کا لباس جسم کے نسبتاً زیادہ قریب تھا اور یہ حالت تو تھی خاندانی عورتوں کےلباس کی جبکہ لونڈیوں کا لباس اس سے بھی زیادہ ننگا ہؤا کرتا تھا وہ یوں کہ یہ لباس ایک باریک جالی دار کپڑے پر مشتمل ہوتا تھا جسکے آر پار سےجسم کے حصے نظر آتے تھے مگر یہ صورت حال سو فیصد نہ تھی یعنی بعض لونڈیاں بھی اپنا ریٹ بڑھانے کیلئے خاندانی عورتوں جیسا لباس پہن لیتی تھیں جبکہ کچھہ خاندانی عورتیں بھی فیشن کے طور پر لونڈیوں جیسا لباس پہن لیتی تھیں جسکی وجہ سے اکثر گاہکوں کو غلط فہمی بھی ہو جایا کرتی تھی یعنی وہ سربازار راستے ہی میں غلطی سے کسی خاندانی عورت کو بھی گلے لگا بیٹھتے تھےاور ایسی صورت حال آزاد عورتوں (یعنی وہ عورتیں جو لونڈیاں نہیں تھیں) کو اذیت دیتی تھی اور اس لئے اذیت دیتی تھی کہ اس زمانے میں اسلام کے آ جانے کی وجہ سے عورتوں کو سچ مچ آزادی مل گئی تھی کیونکہ اب ان عورتوں کی مرضی کے بغیر ان کا نکاح کوئی نہیں کر سکتا تھا اور وہ جس سے نکاح کرنا چاہتی تھیں اس سے انہیں کوئی روک نہیں سکتا تھا اور عورتوں کی یہی آزادی کفار کو بہت چُبھتی تھی لہذا انہوں نے جان بوجھہ کر مسلمان عورتوں کو لونڈی سمجھنے کے بہانے سے تنگ کرنا شروع کردیا تھا سو اس صورت حال کے پیش نظر
اللہ تعالی نے وہ آیات نازل کیں کہ جن کا مقصد عورتوں کو دی گئی آزادیاں واپس لینا نہیں تھا کیوں کہ اگر ان آیات میں ایسا کوئی مقصد ہوتا تو یقیناً عورتوں کو اپنا چہرہ ڈھانپنے کا حکم دیا جاتا یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ عورت کو بنانے والے خدا کو عورت کی جنسی ضروریات کا علم نہ ہو البتہ اللہ تعالی عورت اور مرد کے ایسے تعلق کو ہرگز پسند نہیں کرتا جسمیں عورت مرد کو اپنے قریب لانے کے لئے اپنے جسم کے ایسے حصوں کی نمائش کرے جوعورت کا قدرتی زیور اور سجاوٹ تصور کئے جاتے ہیں مثلاً قمیص کا گلا اتنابڑا رکھہ لینا کہ آدھی آدھی چھاتیاں نظر آنے لگیں یا کولہوں سے نیچے جومچھلی نما بناوٹ ہے یا بازؤں کی گولائیاں وغیرہ انکی نمائش کرنا کیونکہ ان ہتھکنڈوں سے جو مرد پھانسا جائے گا وہ مرد نہیں بلکہ ٹھنڈے خون کا ایک جانور ہوگا جیسا کہ مثلاً چھپکلی اور مینڈک وغیرہ اور ایسے جانور صرف سکھہ کے ساتھی ہوتے ہیں دکھہ کے نہیں لہذا عورتوں کو چاہیئے کہ مردوں کوآنکھیں پھاڑ کر دیکھتے ہوئے اپنے سیکس کی ننگی بھوک کا پیغام نہ دیں بلکہ اپنی نظروں کو جھکا کر پیار کی بھوک کا پیغام دیں تاکہ جو بھی نزدیک آئےوہ سہارا دینے والا ہو، قربانی دینے والا ہو نہ کہ تپتی دھوپ میں چھوڑ کرکسی اور کے ساتھہ چل دینے والا یہی عقل مندی ہے اور قرآن تو عقلمندی ہی سکھاتا ہے جبکہ شیطان بے وقوفی کے دلدل میں دھکیل کر آدم کی اولاد سے پرانے بدلے نکالنا چاہتا ہے لہذا ہوشیار رہنا اور مردوں کو بھی جان لینا چاہیئے کہ اگر وہ اپنی بھوکی ننگی خود غرضانہ خواہشوں کو ذبح کرکے اپنے رب کے حضور پیش کر دیں گے اور آئندہ کے لئے توبہ کرتے ہوئے اپنے خدا سےوعدہ کریں گے کہ عورتوں سے اسلئے ہمدردی کریں گے کہ کمزوروں کا حق اللہ تعالی نے طاقتوروں پر عطائے طاقت کے شکرانے کے طور پر فرض کیا ہے چنانچہ ملاحظہ ہو قرآن کا یہ ارشاد کہ "فاما الصدقات للفقراء" یعنی جہاں تک پُرخلوص مہربانیوں کا تعلق ہے اسکے حقدار تو محروم لوگ ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس تمہید سے پہلے میں جس واقعہ کا ذکر کر رہا تھا کہ جس نے مجھے یہ گزارشات کرنے پر مجبور کیا وہ ایک عورت کے قتل کا سچا واقعہ ہے جو تھوڑا عرصہ پہلے س شہر کے ایک نواحی گاؤں ر میں پیش آیا لہذا اس ناحق قتل کی روئیداد آپ کی خدمت میں پیش ہے۔ 
غیرت کی وجہ سے چھوٹے بھائیوں کے ہاتھوں پچاس سالہ کنواری بہن کا قتل:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ص ایک غریب یتیم لڑکی تھی جس نے اپنی ساری جوانی لوگوں کے گھروں میں کام کرکے اپنے چھوٹے بھائیوں کو ماں بن کر پالا، ان کی شادیاں کروائیں اور انہیں کاروبار بنا کر دئیے وہ دراصل قربانیاں دینے والی صابرہ عورت تھی اس نے ہمیشہ دینا سیکھا تھا لینا نہیں چھوٹی ہی عمر میں ماں کردار سنبھالنے والی یہ ص جب اس عمر میں پہنچی جب لوگ کام کاج چھوڑ کر اپنے لگائے ہوئے درختوں کی چھاؤں میں بیٹھہ کر آرام کرتے ہیں تو اس نے دیکھا کہ بھائیوں اور بھابیوں کا بدلا ہوا رویہ اسے کام کرتے رہنے پر مجبور کررہا ہے سو اس نے کام جاری رکھا اور بھائیوں کی اس قدر بدسلوکی کے باوجود ص نے اپنے بھائیوں کی مالی مدد نہ چھوڑی گویا وہ اپنے بھائیوں کیلئے پیسہ کمانے کی مشین سے زیادہ کچھہ نہ تھی اس دوران اسکی ملاقات ایک ایسے شخص سے ہوئی جس کی بیوی کچھہ عرصہ پہلے فوت ہو چکی تھی اور جسکے دو بچے بھی تھے اس نے ص کو آئی لو یو کہا اور شادی کی خواہش کا اظہار کیا تو ص خوشی سے پھولی نہ سمائی اور آتے ہی جس گھر میں وہ کام کرتی تھی وہاں کی بیگم صاحبہ کو یہ خوشخبری سنائی اور کہنے لگی بی بی جی مجھے اپنے بھائیوں سے شرم آتی ہے اسلئے میری طرف سے آپ میرے بھائیوں سے بات کیجئے کہ وہ مجھےعزت سے بیاہ کر روانہ کر دیں بس یہی ایک غلطی تھی جو بیگم صاحبہ نے کردی پھر کیا تھا اسکے بھائیوں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور اپنی ماں جیسی بہن کو ڈنڈے مار مار کر ہلاک کر دیا اور علی الاعلان نعرے بازی کرتے ہوئے اوربھرے بازار میں لوگوں کو یہ کہتے ہوئے ڈرا رہے تھے کہ ہم نے لینا سیکھا ہے دینا نہیں اور یہ بات سب لوگوں کو پتہ ہونی چاہیئے کہ ہم تو الٹا لوگوں کی عزتوں کو لوٹنے والے لوگ ہیں اور لٹیرا ہمیشہ غیرت مند ہوتا ہے لہذا اگر ہم سے کسی نے رشتہ مانگ کر ہماری غیرت کو للکارنے کی کوشش کی تو ہم خون کی ندیاں بہا دیں گے؛ جبکہ چشم دید گواہوں کے مطابق ص کی لاش بہت دیر تک دھوپ میں پڑی رہی اور اسکا دماغ چیل کوے کھاتے رہے اور مارے دہشت کے کوئی نزدیک نہ آیا لیکن پھر کسی بھلے مانس نے پولیس کو اطلاع کی اور پولیس آئی بھی مگر قاتلوں کی پشت پناہی کرنے والے علاقے کے با اثر زمیندار تھے جنہوں نے پولیس والوں کو بذریعہ رشوت یا سفارش چپ کرا دیا اور ان لوگوں نے اہل علاقہ کو یہ کہہ کر مطمئن کر دیا کہ یہ انکے گھر کا اندرونی معاملہ ہے اور اس عورت کے قتل کا استغاثہ صرف اسکے بھائیوں کی طرف سے دائر ہو سکتا ہے اور چونکہ بھائی بذات خود قاتل ہیں لہذا قانوناً اس مقدمے پر کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی جا سکتی اور یوں ص لاوارث موت ماری گئی اور اس سے شادی کا خواہش مند ہاتھہ پاؤں مارتا رہ گیا اورقاتلوں کے پشت پناہوں کے بہت زیادہ طاقتور ہونے کے سبب انکا کچھہ نہ بگاڑسکا اور رونے پر مجبور ہوا اور یوں پیار کی یہ کہانی مسکراہٹوں سے شروع ہو کر آنسوؤں پر ختم ہو گئی۔ میں پوچھتا ہوں اے اہل دل آپ خود کہیئے ایسے میں لوگ سیدھا راستہ اپنانے کے بجائے زنا پر مجبور ہونگے یا نہیں؟
شاید ایسی ہی صورتوں کے پیش نظر امت محمدی کے لئے بھول چوک اور مجبوری کو معاف کیا گیا ہو گا یعنی قرآن کے مطابق ایمرجنسی حالت میں خنزیر (سؤر) بھی حلال ہے بشرطیکہ اسے کھانے والے کا نہ تو دل اسلام کا باغی ہو اور نہ ہی وہ اس عمل کو راستہ بنا کر عادی مجرم بننے کا ارادہ رکھتا ہو اور شاید اسی لئے متعہ یعنی عارضی شادی کو بھی اسلام میں جائز قرار دیا گیا ہے جسےعرف عام میں کنٹریکٹ میرج بھی کہا جاتا ہے یعنی یہ کنٹریکٹ کسی بھی مدت کا ہو سکتا ہے مثلاً تین گھنٹے، تین دن، تین سال مراد کچھ بھی لیکن یہ یاد رہے کہ ایسی صورت پر عمل درآمد صرف اس وقت تک جائز ہے جب تک کہ مجبوری موجود ہو یعنی معاشرے میں دولت کے ذخیرہ اندوزوں اور سیکس جیسی بنیادی ضرورت کے مانعین موجود ہوں ایسے گنہگاروں کو چاہیئے کہ قرآن کی سورہ الماعون کا مطالعہ کریں تاکہ انہیں انسانوں کی عام ضرورت کی چیزوں کی مناہی کرنے والے لوگوں کے انجام کا پتہ چل سکے پس ایسے لوگوں سے سختی سے نمٹا جانا چاہیئے اس صورت حال کی وضاحت کے لئے میں رسول اللہ کی ایک حدیث آپ کو سناتا ہوں جس میں رسول پاک نے ایک بڑی کشتی کی مثال دی جسکی دو منزلیں تھیں ایک اوپر والی ایک نیچے والی جبکہ پینے کا پانی اوپربیٹھے ہوئے لوگوں کے پاس تھا جب نیچے والوں کو پانی کی ضرورت پڑی تو نیچے والوں نے اوپر والوں کا دروازہ کھٹکھٹایا اور پانی کیلئے اوپر والوں کی بہت منت سماجت کی مگر اوپر والوں نے دروازہ بالکل نہ کھولا اور پانی دینے سے صاف انکار کر دیا تو اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ نیچے والوں نے پانی حاصل کرنے کیلئے کشتی کے فرش میں سوراخ کردیا اور یوں دونوں کا کام تمام ہوا لہذا معاشرے کو اجتماعی تباہی سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ معاشرے کےاندرموجود غلط خیالات رکھنے والے لوگوں کو سخت سے سخت اور عبرت ناک سزائیں دی جائیں تاکہ دین سے دوری اور گمراہی کے رحجان کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے رسول اللہ نے فرمایا کہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ لوگ اچھائی کو برائی سمجھنے لگیں گے اور برائی کو اچھائی سمجھ کر کرنے لگیں گے اور یہ وہ وقت ہو گا جب بڑے بڑے علماء کے سر چکرا جائیں گے تو جان لو مسلمانو کہ آج وہی وقت ہے جس کا ثبوت آپ کو ان چند مسائل اور ان کے جوابات سے مل جائے گا جوہم آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں لہذا پیش خدمت ہیں چند مسئلے اور ان کے جواب: ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مسئلہ: کیا واقعی اسلام کی روشنی میں احساس برتری اور خود اعتمادی اچھی چیزیں ہیں اور احساس کمتری بری چیز ہے؟
جواب: سچ یہ ہے کہ معاملہ الٹ ہے یعنی انسان میں خود اعتمادی کی بجائے خدا اعتمادی ہونی چاہیئے اور احساس برتری کی بجائے احساس کمتری ہونا چاہیئے دراصل معاملات کے الٹ ہونے کا ثبوت ان احادیث میں بھی آیا ہے جن میں امام مہدی کا تذکرہ ہے اور ان احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ جب امام مہدی کا ظہور ہو گا تو لوگ دین سے اتنے دور ہوں گے کہ لوگوں کو امام مہدی کی باتیں بالکل نئی اور عجیب عجیب لگیں گی حتیٰ کہ ان کے ماننے والے یعنی مسلمان اکثریت میں ان کے خلاف ہو جائیں گےان عقل کے اندھوں کو الٹا نظر آتا ہےمجنوں نظر آتی ہے لیلیٰ نظر آتا ہے اصل بات یہ ہے کہ ایک عرصہ سے مسلمانوں کی ڈکشنری الٹی چلی آ رہی ہے اورایسا رسول اللہ کی وفات ظاہری کے کچھہ ہی مدت بعد یعنی صرف چار سو سال کےاندر اندر ہی ہو گیا تھا اور بڑے افسوس کی بات ہے کہ مسلمانوں نے قرآن کا دامن چھوڑ دیا اور انکی ہوا اکھڑگئی جسے آج کے مسلمان یہ کہہ کر خود کوجھوٹی تسلیاں دے رہے ہیں کہ اللہ تعالی اپنے پیاروں پر ہی تو آزمائش ڈالتا ہے بات یہ ہے کہ آزمائش یقیناً ایک سچی بات ہے مگر یہ آزمائش چھوٹے چھوٹے گروپوں پر ہو سکتی ہے جیسا کہ مثلا اللہ کے پیارے رسول اور آپ کے جاں نثار ساتھیوں کا شعبِ ابی طالب میں محصور ہو کر رہ جانا یا نواسہ رسول حسین ابن علی اور انکے جاں نثار ساتھی یا پھر اکیلے اکیلے افراد پر بھی آزمائش ہو سکتی ہے لیکن جب پوری کی پوری قوم مصیبت میں ہو تو وہ آزمائش نہیں ہوتی بلکہ خدا کے غضب کا اظہار ہو تا ہے یقین نہ آئے تو قرآن اٹھا کر دیکھہ لیجئے جا بجا آپ کو قوموں پر عذاب کے تذکرے ملیں گے اور جوسوال کیا گیا اس سوال کا مدلل جواب قوم عاد کی بابت نازل کردہ آیات میں ڈھونڈ لیجئے۔
 مسئلہ: کیا موسیقی سننا حرام ہے؟
جواب: نہیں کیونکہ ایسی حدیثیں موجود ہیں جن میں اللہ کے رسول کے سامنے گانا گایا گیا اور آلات موسیقی کا استعمال کیا گیا مگر آپ نے منع نہیںفرمایا دراصل موسیقی کو حرام بتانے والی جھوٹی حدیثیں کافروں نے اس لئےتیار کیں تاکہ خدا کی تعریف والہانہ انداز سے نہ کی جائے کیونکہ کافر لوگ اپنے بتوں کی پوجا کرتے تھے اور رحمٰن کے نام سے بدکتے تھے اور دوسرا مقصد مسلمان لشکر کے پیچھے موجود جنگی ترانے گا کر جوانوں کا جوش بڑھانےوالی لڑکیوں سے نجات حاصل کرنا تھا اور کیا بھولے لوگ اس بات کو بھول گئے کہ اللہ تعالی نے خود ایسے پرندے پیدا کئے ہیں جنکا بولنا موسیقی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مسئلہ: کیا ٹی وی اور فلم دیکھنا حرام ہے؟
جواب: ہرگز نہیں اس لئے کہ جس حدیث کو بنیاد بنا کر منع کیا گیا ہے وہ حدیث ہی جھوٹی ہے کیونکہ اس حدیث کو گھڑنے والے رسول اللہ کے زمانے سے بھی پہلے سے سرگرم چوروں اور ڈاکوؤں کے وہ گروپ ہیں جو رسول پاک کے زمانہ کے بہت بعد تک سرگرم عمل رہے حتٰی کہ عباسی خلیفوں نے اس حدیث کو جھوٹا سمجھا اور پولیس کو اجازت دی کہ عینی شاہدوں کی مدد سے مصوروں کو مجرموں کی تصویریں بنانے کو کہے اور یاد رہے کہ اس زمانے میں ایسا کرنا آج کے زمانے سے بھی زیادہ ضروری اسلئے تھا کہ اس زمانے میں کیمرے بھی نہیں تھےعلاوہ ازیں اس حدیث کے جھوٹا قرار دئے جانے کی بنیاد پر پولیس کو سراغ رساں کتوں کی اجازت بھی مل گئی اور عوام نے بھی رکھوالی کرنے والے کتےرکھنا شروع کر دئے ۔۔۔۔۔۔۔۔H۔۔۔۔۔۔۔۔ (تفصیل انشاءاللہ آگے چل کر)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مسئلہ: کیا اسلام میں غیرت جائز ہے؟
جواب: ایسی عورتیں جنکے ساتھ نکاح اللہ نے حرام کیا ہے مثلاً بہن بیٹی خالہ پھوپھی بھانجی بھتیجی وغیرہ ان عورتوں کے معاملے میں غیرت ناجائز ہے بلکہ حرام اور گناہ ہے اس لئے کہ دریا کے جائز اور قانونی راستے میں اگر دیوار کھڑی کی گئی تو اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ وہ اپنے کناروں سے باہر نکل کر آبادیوں اور بستیوں کو تباہ کرے گا اور یہ صورت ایک فتنے کی صورت ہے اور فتنے کے بارے میں ارشاد ہے کہ " الفِتنۃُ اشَدُ مِنَ القتل " یعنی جو فتنہ ہے وہ قتل سے بھی زیادہ شدید ہے اسکا مطلب یہ ہے کہ اگر ہماری بہنیں اور بیٹیاں کسی کے پاس جانا چاہتی ہوں تو ہمیں منع نہیں کرنا چاہیئے کیونکہ یہ انکا وہ حق ہے جو اللہ اور اسکے پیارے رسول نے انہیں دیا ہے اور جو تم پر فرض ہے اور آخرت اور اللہ کی رضا کے طلب گار حقداروں کو ان کا حق ادا کر دیتے ہیں اور غیرت تو انسان کا ایک حیوانی جذبہ ہے جوغرور، دوسروں سے حسد، نفرت، دوسروں کو اپنے سے کمتر سمجھنے یعنی شیطان کی طرح اپنے آپ کودوسروں سے بہتر سمجھنے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے اور اللہ کےحکموں کے آ گے گردن نہ جھکانے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے، کہتے ہیں کہ کتا کتے کا دشمن ہوتا ہے مگر یاد رکھئے ہم کتے نہیں انسان ہیں بلکہ کتے میں بعض باتیں انسانوں سے بھی بہترہیں وہ یہ کہ اسے اپنے مالک کی پہچان ہو تی ہے جبکہ ہم انسانوں میں سے بعض اتنے گئے گزرے ہوتے ہیں کہ انہیں انسان ہونے کے باوجود اپنے پیدا کرنے والے کی پہچان بھی نہیں ہوتی پس خالق
کائنات نے اپنے پاک قرآن میں خوب ارشاد فرمایا کہ " وہ لوگ جانوروں کی طرح ہیں یا ان سے بھی زیادہ گمراہ "۔ لہذا بہنوں بیٹیوں کے معاملے میں بے غیرتی ایمان کی نشانی ہے اور غیرت مندی کفر اور خالق کائنات کے حضورگستاخی اور بغاوت کی نشانی ہے پس یہ غیرت ہی ہے جس کی وجہ سے پاکستان کے
علاقہ چودوان میں لونڈوں کا سالانہ میلہ لگتا ہے جس میں پاکستان کے نامی گرامی لونڈے باز اپنے لونڈوں سمیت شرکت کرتے ہیں اور ہر سال لونڈوں کے مسئلے پر دو تین قتل ہو جاتے ہیں دراصل جتنے بھی ایسے کام ہیں جو خلاف فطرت ہیں مثلا مردوں کا مردوں سے جنسی اختلاط، عورتوں کا عورتوں سے جنسی اختلاط، اور ماسٹربیشن یعنی مردوں یا عورتوں کا اپنے ہاتھوں، انگلیوں یا آلات سے جنسی مزہ حاصل کرنا، اسکے علاوہ جانوروں سے جنسی اختلاط یہ سب کے سب ایسے شیطانی کام ہیں جو خدا کے غضب کو آواز دیتے ہیں اور ماضی میں اللہ تعالی ایسے کام کرنے والوں کی بستیوں کی بستیاں تباہ کر چکا ہے کیونکہ اللہ کے بنائے ہوئے سیدھے راستے کو چھوڑ کر ایسے کاموں میں انسانیت کی تذلیل چھپی ہے اور فحاشی کے لغوی معنی کی تعریف میں ایسے ہی کام آتے ہیں اور یاد رکھیئے کہ فحاشی اور عریانی دو الگ الگ چیزیں ہیں پس فحاشی میں شامل ہیں خلاف فطرت جنسی کام اور ایسے جنسی اختلاط جو ایسے
رشتوں کے درمیان ہوں جن کا نکاح شرعی طور پر حرام قرار دیا گیا ہے جبکہ عریانی سے مراد ہے ننگا پن تاہم ایسے لوگ جو معاشرے میں فحاشی کے پھیلنے کا باعث ہوں مثلاً ایسے لوگ جو اپنی لڑکیوں کو لڑکوں سے بات چیت نہ کرنے دیتے ہوں یقیناً گناہ گار لوگ ہیں کیونکہ یہ لوگ یہ سب کچھ جذبۂ غیرت کے تحت کر رہے ہوتے ہیں نہ کہ خدا کی محبت میں تو جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ اگر نماز جیسی مقدس چیز بھی خدا کی محبت کے علاوہ کسی اور نیت مثلا ریا کاری یعنی دکھاوے کی نیت سے پڑھی جائے تو دنیا کا سب سے بڑا گناہ یعنی شرک بن جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مسئلہ: کیا اسلام میں پردہ ہے؟
جواب: اسلام میں غیر شادی شدہ عورتوں کو چہرہ چھپانے کا حکم نہیں ہے، اگرایسا کوئی حکم ہوتا تو قرآن میں یہ آیت نہ ہوتی جس میں یہ الفاظ ہیں کہ "ما طاب لکم من النساء " یعنی ان عورتوں سے نکاح کرو جو تمہارے دل کولبھائیں۔ تو صاف ظاہر ہے کہ جسے سرے سے دیکھنے کی اجازت ہی نہ ہو وہ دل کو لبھائے یہ تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا البتہ اسلام میں جو حکم ہے وہ یہ ہے کہ عورتیں اپنے اوپر اس طرح چادر لیں اور اس طرح چال چلیں کہ انکے جسم کے وہ حصے جو انکا پوشیدہ زیور اور قدرتی سجاوٹ کی چیزیں سمجھے جاتے ہیں مثلاً چھاتیاں وغیرہ وہ ظاہر نہ ہوں اور یہ چادریں سر پر بھی ہونی
چاہیئیں اس طرح کہ تھوڑی آگے کو ماتھے کی طرف بڑھی ہوئی ہوں اور یہ سٹائل مسلمان عورتوں کی خاص پہچان ہے تاکہ کوئی کافر انہیں چھیڑنے کی جرأت نہ کرے کیونکہ وہ صرف مومنوں کا حق ہیں اور یہ بھی کہ ایک مومن اور مومنہ کے آپسی تعلق کی بنیاد ہوس کی بجائے پیار اور محبت پر ہونی چاہیئے کیونکہ سیکس میں سے اگر محبت کو نکال کر صرف ہوس کو باقی رہنے دیا جائے تو پھر وہ دونوں یعنی میاں بیوی ایک دوسرے کے دکھ سکھ کے ساتھی نہیں بنیں گے بلکہ صرف سکھ کے ساتھی ہوں گے اور مصیبت میں کام نہ آئیں گے اور بغیرمحبت کے سیکس یونہی ہے کہ جیسے کسی خوبصورت تتلی کے پر نوچ کر اسے ایک بدصورت کیڑا بنا دیا جائے تاہم جن آیات سے آجکل کے جاہل ملاؤں نے پردے یا حجاب کا مفہوم مراد لیا ہے رسول اللہ کے زمانے میں رسول اللہ کے ساتھ رہنے والے لکھے پڑھے صحابہ نے ہرگز وہ مفہوم نہیں لیا تھا البتہ غیرت کے مارے ہوئے عرب کے دوردراز علاقوں کے وہ دیہاتی بدو جو غیرت کی وجہ سے رسول اللہ سے سخت دشمنی رکھتے تھے اور ان کی اس دشمنی کا ذکر قرآن میں بھی موجود ہے اور جو غیرت مندی کی وجہ سے اپنی معصوم بیٹیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیتے تھے انہوں نے ضرور یہ مفہوم لیا تھا تو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ان آیات میں ایسی کیا باتیں کہی گئیں جن کی وجہ سے آجکل کے ملاؤں کے ذہن میں اتنی بڑی غلط فہمیاں پیدا ہو گئیں. تو سنئے اس سوال کا جواب لیکن اس جواب کو سمجھنے کیلئے پہلے آپ کو اس ماحول کو سمجھنا پڑے گا جو اس دور میں تھا دراصل اس دور میں ہر چوتھے آدمی کے پاس لونڈیاں ہوا کرتی تھیں جنہیں وہ مخالف قبیلے کے لوگوں کو قتل کرکے حاصل کرتے تھے یعنی وہ عورتیں لوٹا ہوا مال ہوا کرتی تھیں اور ان لونڈیوں کے مالکوں میں سے اکثر ان لونڈیوں کو پیسہ کمانے کا ذریعہ بناتے تھے یعنی جسم فروشی کے دھندے پر لگا دیتے تھے اسکے علاوہ اس دور کی عورتوں کا لباس آجکل کے انڈیا کے صوبہ راجھستان اور بیکا نیر کے علاقے کی عورتوں کے لباس سے ملتا جلتا ہؤا کرتا تھا یعنی ننگا ننگا سا بس اتنا فرق تھا کہ عرب عورتوں کا لباس اس اعتبار سے ذرا زیادہ ننگا ہؤا کرتا تھا کہ انڈیا کے ان علاقوں کی عورتوں کے لباس میں کسی حد تک ڈھیلا ڈھالا پن پایا جاتا ہے جبکہ رسول اللہ کے زمانے کی عرب عورت کا لباس جسم کے نسبتاً زیادہ قریب تھا اور یہ حالت تو تھی خاندانی عورتوں کے لباس کی جبکہ لونڈیوں کا لباس اس سے بھی زیادہ ننگا ہؤا کرتا تھا وہ یوں کہ یہ لباس ایک باریک جالی دار کپڑے پر مشتمل ہوتا تھا جسکے آر پار سے جسم کے حصے نظر آتے تھے مگر یہ صورت حال سو فیصد نہ تھی یعنی بعض لونڈیاں بھی اپنا ریٹ بڑھانے کیلئے خاندانی عورتوں جیسا لباس پہن لیتی تھیں جبکہ کچھہ خاندانی عورتیں بھی فیشن کے طور پر لونڈیوں جیسا لباس پہن لیتی تھیں جسکی وجہ سے اکثر گاہکوں کو غلط فہمی بھی ہو جایا کرتی تھی یعنی وہ سر بازار راستے ہی میں غلطی سے کسی خاندانی عورت کو بھی گلے لگا بیٹھتے تھے اور ایسی صورت حال آزاد عورتوں (یعنی وہ عورتیں جو لونڈیاں نہیں تھیں) کو اذیت دیتی تھی اور اس لئے اذیت دیتی تھی کہ اس زمانے میں اسلام کے آ جانے کی وجہ سے عورتوں کو سچ مچ آزادی مل گئی تھی کیونکہ اب ان عورتوں کی مرضی کے بغیر ان کا نکاح کوئی نہیں کر سکتا تھا اور وہ جس سے نکاح کرنا چاہتی تھیں اس سے انہیں کوئی روک نہیں سکتا تھا اور عورتوں کی یہی آزادی کفار کو بہت چُبھتی تھی لہذا انہوں نے جان بوجھ کر مسلمان عورتوں کو لونڈی سمجھنے کے بہانے سے تنگ کرنا شروع کردیا تھا سو اس صورت حال کے پیش نظر اللہ تعالی نے وہ آیات نازل کیں کہ جن کا مقصد عورتوں کو دی گئی آزادیاں واپس لینا نہیں تھا کیوں کہ اگر ان آیات میں ایسا کوئی مقصد ہوتا تو یقیناً عورتوں کو اپنا چہرہ ڈھانپنے کا حکم دیا جاتا یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ عورت کو بنانے والے خدا کو عورت کی جنسی ضروریات کا علم نہ ہو البتہ اللہ تعالی عورت اور مرد کے ایسے تعلق کو ہرگز پسند نہیں کرتا جسمیں عورت مرد کو اپنے قریب لانے کے لئے اپنے جسم کے ایسے حصوں کی نمائش کرے جو عورت کا قدرتی زیور اورسجاوٹ تصور کئے جاتے ہیں مثلاً قمیص کا گلا اتنا بڑا رکھ لینا کہ آدھی آدھی چھاتیاں نظر آنے لگیں یا کولہوں سے نیچے جو مچھلی نما بناوٹ ہے یا بازؤں کی گولائیاں وغیرہ انکی نمائش کرنا کیونکہ ان ہتھکنڈوں سے جو مرد پھانسا جائے گا وہ مرد نہیں بلکہ ٹھنڈے خون کا ایک جانور ہوگا جیسا کہ مثلاً چھپکلی اور مینڈک وغیرہ اور ایسے جانور صرف سکھ کے ساتھی ہوتے ہیں دکھ کے نہیں لہذا عورتوں کو چاہیئے کہ مردوں کو آنکھیں پھاڑ کر دیکھتے ہوئے اپنے سیکس کی ننگی بھوک کا پیغام نہ دیں بلکہ اپنی نظروں کو جھکا کر
پیار کی بھوک کا پیغام دیں تاکہ جو بھی نزدیک آئے وہ سہارا دینے والا ہو ، قربانی دینے والا ہو نہ کہ تپتی دھوپ میں چھوڑ کر کسی اور کے ساتھ چل دینے والا یہی عقل مندی ہے اور قرآن تو عقلمندی ہی سکھاتا ہے جبکہ شیطان بے وقوفی کے دلدل میں دھکیل کر آدم کی اولاد سے پرانے بدلے نکالنا چاہتا
ہے تو تم نے قرآن پاک میں سورہ اعراف کی ستائیسویں آیت کے ان لفظوں پر غور کیا کہ ۔۔۔۔۔۔ اے آدم کی اولاد (دیکھنا کہیں) شیطان تمہیں بہکا نہ دے جس طرح تمہارے ماں باپ کو (بہکا کر) بہشت سے نکلوا دیا اور ان سے ان کے کپڑے اتروا دیئے تاکہ ان کے ننگ ان کو کھول کر دکھا دے۔ وہ (یعنی شیطان) اور اس کے بھائی تم کو ایسی جگہ سے دیکھتے رہے ہیں جہاں سے تم ان کو نہیں دیکھ سکتے ہم نے شیطانوں کو انہیں لوگوں کا رفیق کار بنایا ہے جو ایمان نہیں رکھتے ۔۔۔۔۔۔ القرآن ۔۔۔۔۔۔ لہذا ہوشیار رہنا اور مردوں کو بھی جان لینا چاہیئے کہ اگر وہ اپنی بھوکی ننگی خود غرضانہ خواہشوں کو ذبح کرکے اپنے رب کے حضور پیش کر دیں گے اور آئندہ کے لئے توبہ کرتے ہوئے اپنے خدا سے وعدہ کریں گے کہ عورتوں سے اسلئے ہمدردی کریں گے کہ کمزوروں کا حق اللہ تعالی نے طاقتوروں پر عطائے طاقت کے شکرانے کے طور پر فرض کیا ہے چنانچہ ملاحظہ ہو قرآن کا یہ ارشاد کہ "فاما الصدقات للفقراء" یعنی جہاں تک پُرخلوص مہربانیوں کا تعلق ہے اسکے حقدار تو محروم لوگ ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مسئلہ: کیا عورتیں بھی مسجدوں میں آ کر نماز پڑھ سکتی ہیں؟
جواب: جی ہاں علماء اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ رسول اللہ کے زمانے میں عورتیں بھی مسجدوں میں نمازیں پڑھا کرتیں تھیں اور رسول اللہ کے زمانے کے بعد بھی کافی عرصہ تک یہ معمول جاری رہا لیکن بعد میں ایک حاکم نے اس معمول کو جبراً ختم کیا تاہم یہ تمام سہولتیں شادی شدہ عورتوں کیلئے نہیں ہیں صرف کنواری، طلاق یافتہ اور بیوہ عورتوں کیلئے ہیں جبکہ شادی شدہ عورتوں کیلئے دوسرا حکم ہے یعنی کسی سے نرم لہجے میں بات نہ کریں تاکہ ایسے لوگ جنکے دلوں میں روحانی بیماریاں ہیں غلط فہمی کا شکارنہ ہو جائیں بلکہ اگر ضروری طور پر کسی چیز کا لین دین کرنا ہو تو اوٹ میں رہ کر کریں اور خدا سے ڈرتی رہیں اسلئے کہ جب کوئی نہیں دیکھتا تو وہ دیکھہ رہا ہوتا ہے اور وہ دنیا اور آخرت میں ذلیل کرنے والا عذاب دیتا ہے جس سے انسان کہیں کا نہیں رہتا
مسئلہ: کیا کسی ملک میں طلاق کی شرح کا زیادہ ہونا وہاں پر شادیوں کےناکام ہونے کا ثبوت ہے؟
جواب: ضروری نہیں، اسلئے کہ دھوکہ دینے والی عورت اور دھوکہ دینے والا مرد ان دونوں سے بہتر ہیں دھکا دے دینے والی عورت اور دھکا دینے والا مرد یعنی کسی اور کے نکاح میں ہوتے ہوئے کسی اور سے جنسی تعلقات قائم کرنے سے بہتر ہے کہ خدا کو کار ساز سمجھتے ہوئے اور اس پر توکل کرتے ہوئے علیحدگی اختیار کرلی جائے اور اللہ تعالی ایسے ایمان داروں کا اجر ہرگز ضائع نہیں کرتا یعنی یہ کہ الگ ہو جانے والے ایسے میاں بیوی سے قرآن میں اللہ تعالٰی نے یہ وعدہ فرمایا ہے کہ اگر وہ تنگدست ہوں گے تو اللہ اپنے فضل سے انہیں دولتمند کر دے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مسئلہ: کیا اسلام میں داڑھی ہے یا داڑھی میں اسلام ہے؟
جواب: داڑھی کا مذہب سے کوئی تعلق سمجھنا جہالت ہے دراصل مجھے حیرت ہے کہ اچھے اچھے علماء کہلانے والے لوگ بھی داڑھی کو سنت رسول سمجھتے ہیں بلکہ کچھہ تو واجب کہتے ہیں حالانکہ یہ اس دور کا رواج تھا یعنی اس دور میں بغیر داڑھی کے مرد کا سرے سے کوئی تصور ہی موجود نہ تھا جس کا مطلب یہ ہے کہ ابو جہل اور ابو لہب سمیت تمام کافر داڑھیوں والے تھے ایک مرتبہ رسول اللہ کے سامنے شلوار کو پیش کیا گیا جو ہمارے علاقوں کا لباس ہے تو آپ نے اسکی بہت تعریف کی اور یہ الفاظ فرمائے کہ اس سے زیادہ ساتر لباس اور کوئی نہیں مگر آپ نے اسے پہنا نہیں جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ مباح یعنی ایسی باتیں جنکا نہ کچھہ گناہ ہو نہ کوئی ثواب ہو ایسی باتوں میں معاشرے کے ساتھہ چلنا سنت رسول ہے لہذا اگر اس اعتبار سے دیکھا جائے توچونکہ آجکل کے  معاشرے کا زیادہ تر رواج داڑھی صاف رکھنا ہے اسلئے اس لحاظ سے داڑھی صاف رکھنا ہی سنت قرار پائے گا لیکن سچ بات یہ ہے کہ رسول اللہ کی ہو بہو نقل کرنا اگر سنت میں شمار ہوتا تو ہم آج بھی بجائے میزائلوں،جہازوں، آبدوزوں اور ٹینکوں سے لڑنے کے تیر اور تلوار سے لڑ رہے ہوتے لیکن اصل بات یہ ہے کہ مسلمانوں اور کافروں کے درمیان جب جنگوں کے دور شروع ہوئے تو آقائے مصطفٰے نے حکم فرمایا کہ اپنی داڑھیوں کو بالکل چھوٹا کر دو تاکہ کافروں کے ہاتھہ نہ آ سکیں پس داڑھی کو اہم بتانے والی حدیثیں کافروں نے گھڑی ہیں تاکہ مسلمانوں کو انکی داڑھیوں سے با آسانی پکڑا جاسکے اور ویسے بھی ہم تو آقا کے غلام ہیں اور غلام کو جرأت نہیں ہونی چاہیئے کہ آقا کے ظاہری حُلیے کی نقالی کرے کیونکہ ایسا کرنا گستاخی میں شمار ہوتا ہے اگر تمہیں سچ مچ اللہ کے رسول سے محبت ہے تو آپ کے اسوہ حسنہ کا اتباع کرو خود اللہ تم سے پیار کرنے لگ جائے گا آخر میں رابطہ کرنے کے خواہش مند افراد کے لئے میرا نام پتہ حاضر ہے:
نام: امجد رفیع شاہ کھگہ
پتہ: رفیع ہوم، بنگلہ نمبر 14، عقب جی پی او، حسن پروانہ کالونی، ملتان،
پنجاب، پاکستان۔
MOBILE1: 00923416396862MOBILE2: 00923136061392MOBILE3:
00923336180642PHONE W.L.L.: 0092652016769PHONE LAND LINE:

0092614511392