امت کی تباہی کا سبب
---- امت کی ترقی کا راز اور تباہی کا سبب قرآن و حدیث کی روشنی میں ----
ہم لوگ قرآن اور حدیث میں بھی اپنے مطلب کا مفہوم نکالنے کے عادی ہیں جو بات آسان اور مزیدار لگے اسے اپنا لیتے ہیں اور جو مشکل لگے اسے چھوڑ دیتے ہیں
مثلاً حضرت ابو ہریرہ سے مروی ایک حدیث کی رو سے ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر پانچ حق بتائے گئے ہیں۔
1- سلام کا جواب دینا
2- مریض کی عیادت کرنا
3- تدفین کے لئے جنازے کے ساتھ چلنا
4- جب کوئی مدد کے لئے پکارے تو اس کی پکار کا جواب دینا
5- چھینک مارنے والا جب الحمدللہ کہے تو جواباً یرحمک اللہ کہنا
مگر مطلب کا ترجمہ کرنے والوں نے مسلمان کے چوتھے حق کہ جس میں فرمایا گیا ہے کہ ---- جب کوئی مدد کے لئے پکارے تو اس کی پکار کا جواب دینا ---- تو اس حق کا ترجمہ یار لوگوں نے کھانے پینے کی دعوت مراد لیا ہے ---- یہی تو ہے ڈنڈی مارنا ---- یعنی میٹھا میٹھا ہپ ہپ ---- کڑوا کڑوا تھو تھو ----
ارے بھائی کم از کم قرآن و حدیث کے معاملے میں تو اپنے نفسانی خواہشات کا گلا گھونٹنا سیکھ لو اور اپنی خواہشات کو اپنے دوسرے مسلمان بھائیوں کی ضروریات پر قربان کرنا سیکھ لو ---- اے آج کل کے مسلمانو تم لوگوں میں دینی غیرت کی بجائے عورت کے لئے غیرت پائی جاتی ہے جو کہ دراصل جانوروں کا طریقہ کار ہے نر جانور مادہ کے لئے آپس میں لڑتے ہیں جبکہ انسان نما جانوروں میں بھی یہی خصلت پائی جاتی ہے مگر جب انبیاء علیہم السلام نے انسانوں کو انسان بنایا تو پہلے جو لوگ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے وہ اپنے منہ کا نوالہ نکال کر اپنے دوسرے مومن بھائی کے منہ میں ڈالنے لگا ۔۔۔۔ آپ صحابہ کرام کی مثال ہی لے لیجیئے کہ جب مکے والوں نے مسلمانوں کا جینا حرام کر دیا غریب صحابہ کو جسمانی اذیتیں دیتے تھے اور جو قدرے تگڑے تھے انہیں طعنے دیتے اور انہیں بے وقوفی اور بے غیرتی کا طعنہ مارتے چنانچہ اللّٰہ پاک نے رسولِ کریم کو وحی فرمائی کہ مدینے ہجرت کر جائیں لہٰذا رسولِ پاک اور صحابہ کی ایک بڑی تعداد مدینے پہنچ گئی یہاں انصار صحابہ نے مہاجرین صحابہ کا ایسا محبت بھرا استقبال کیا کہ دنیا میں اس کی مثال ملنا محال ہے ہؤا یوں کہ جب لٹے پٹے مہاجرین صحابہ جب مدینے پہنچے تو انصار صحابہ نے نہ صرف اپنے گھر اور گھروں کے مال مہاجرین صحابہ کے لئے آدھے آدھے کر دیئے بلکہ جس کی دو بیویاں تھیں اس نے ان میں سے خوبصورت کو اپنے مہاجر بھائی کے لئے طلاق کر دیا ۔۔۔۔ اور ایسا کیوں نہ ہو جب کہ قرآن نے کہہ دیا کہ ۔۔۔۔ لن تنالو البر حتیٰ تنفقو من ما تحبون ۔۔۔۔ ترجمہ ۔۔۔۔ تم ہرگز اس وقت تک نیکی کو نہیں پہنچ سکتے کہ جب تک اس میں سے خرچ نہ کرو جو تمہیں محبوب ہو ۔۔۔۔ تاہم کچھ صحابہ جو ایمان کے اتنے اونچے مرتبے پر نہیں تھے انہوں نے عورت کے معاملے میں سانجھ اور شراکت کو تسلیم کیا اور خدا کی رضا کی خاطر اپنے اندر والی میں کو مار دیا کیونکہ میں تو شیطان کے نفس میں پائی جانے والی خصلت ہے ۔۔۔۔ چنانچہ قرآن میں اللّٰہ تبارک و تعالیٰ نے شیطان کا قول یوں نقل کیا ہے ۔۔۔۔ انا خیر منه خلقتنی من نار و خلقته من طین ۔۔۔۔ ترجمہ ۔۔۔۔ میں اس سے بہتر ہوں کیونکہ تو نے مجھے آگ سے بنایا ہے اور اسے مٹی سے بنایا ہے ۔۔۔۔ سانجھ اور شراکت داری کے حوالے سے ایک حدیث پیش خدمت ہے ۔۔۔۔ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص محمد ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: "میری بیوی کسی بھی ہاتھ لگانے والے کا ہاتھ نہیں روکتی۔" آپ ﷺ نے فرمایا: "اسے طلاق دے دو۔" اس نے عرض کیا: "میں اس کے بغیر صبر نہیں کر سکتا۔" آپ ﷺ نے فرمایا: "پھر اس سے فائدہ اٹھاؤ (یعنی اسے اپنے نکاح میں رکھو)۔" ۔۔۔۔ تاہم چونکہ عام مسلمانوں کا ایمان صحابہ کرام کے برابر نہیں ہو سکتا لہٰذا ان کے لئے اتنا سخت امتحان نہیں ہے بلکہ رعایت کی خوشخبری ہے اور وہ یہ کہ عام مسلمانوں کو اپنی بیویوں کے معاملے میں محدود پیمانے پر غیرت کی اجازت ہے مگر صرف اجازت ہے یعنی یہ اللّٰہ پاک کی پسندیدہ سوچ نہیں ہے البتہ جہاں تک بہن بیٹی وغیرہ کا تعلق ہے تو اس معاملے میں جو انسان بہن بیٹی کو پرایا دھن نہیں سمجھتا وہ مسلمان ہی نہیں ہے یعنی اسلام بہن بیٹی کے معاملے میں ہرگز ہرگز غیرت کرنے کی اجازت نہیں دیتا کیونکہ ایسا کرنے سے آپ کی بہن بیٹی گھر کے کسی پالتو جانور کے ساتھ ملوث ہو سکتی ہے یا کچھ اور غلط کر سکتی ہے جس کا گناہ آپ کے سر آئے گا
Comments
Post a Comment